|

وقتِ اشاعت :   September 4 – 2018

یار لوگ مضطرب تھے کہ پاکستان میں جمہوری نظام کو چلنے نہیں دیاجاتا‘ہر دس سال بعد بوٹوں کی ٹاپ سنائی دے جاتی ہے اس خیال میں کمال اس وقت آجاتاہے کہ جب مقتدرہ کے باپ انگریز کے پالے پوسے جاگیر داری پلے یہ کہنے لگیں کہ’’ سیاسی قیادت کو جب موقع ہی نہیں دیا گیا تو سیاستدانوں کو موردالزام ٹھہرا کر ملک کی تمام سیاسی اور سماجی نا ہمواریوں ، نا انصافیوں اور خرابیوں کی ذمہ داریاں ان کے سر تھونپ دینا اس طبقے کے ساتھ سراسر نا زیادتی ہے ۔

اس ملک میں موجود سیاسی ‘ سماجی اور انتظامی خرابیوں کی بنیادیں دراصل آمریت کے پیدا کردہ ہیں‘‘ شاید جاگیر دار ، سردار ، میر اور معتبرین کو پالتے پالتے ملک کی مقتدرہ کے سمجھ میں اب یہ بات آگئی ہے کہ کہ بار بار کی سیاسی عمل کو روک کر آمریت کا نفاذ ان کے بغل بچوں کو شدت کے ساتھ ناگوار گزرتی رہی ہے چونکہ اپنے بچے سب کو عزیز ہوتے ہیں خواہ وہ سیاسی ہی کیوں نہ ہوں ۔

لہذا مقتدرہ نے بلآخر اس کا حل نکال لیا اور اپنے پالے سیاسی بچوں کو تاابد اس سیاسی اذیت سے نجات دلانے کی ٹھان لی ہے ۔ نو آبادیت کی پیداوار ملکی مقتدرہ نے اپنے ماضی کے آقاؤں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جدید نوآبادیت کے گر ازبر لیے ہیں ’’اپنی جگہ بیٹھ کردور آباد یوں کو کنٹرول کرنا‘‘۔ 

اس زریں اصول کو استعمال میں لاتے ہوئے مقتدرہ اپنی جگہ پر براجمان ہو کر عوامی نمائندوں ہی کے ذریعے عوام کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے موجودہ حالات کے تناظر میں مقتدرہ کے باکمال لوگ تماشیوں یہ کرتب بھی دکھانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ 

ہمارے کیمونسٹ اور لبرل دانشور اور لکھاریوں کو سردار اور سرمایہ دار کے ایسے پیچھے لگا دیا جیسے پولیس والا ٹرک کے بتی کے پیچھے لگ جاتا ہے اور خود چھپکے سے عدلیہ ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ پر ایسا قبضہ کر گئے کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی۔ 

جن کیمونسٹ اور لبرل دانشور اور لکھاریوں نے عوام کو اس سازش کی خبر دینی تھی وہ سردار ، سردار کش لگا رہے ہیں اور ملا ملا گھونٹ پی رہے ہیں جبکہ مقتدرہ نے پہلے’’ وکلا تحریک ڈرامہ‘‘ کے ذریعے عدلیہ ، پھر ملکی سلامتی ’ امن عامہ اور کرپشن کے خاتمے کے نعرے کے ذریعے انتظامیہ ، حتیٰ کہ تحصیل اور یونین کونسل لیول تک پرائمری اسکول اور بنیادی مرکز صحت جیسے چھوٹے اداروں کو بھی نہیں بخشا ۔ 

آخر میں نئے پاکستان کے نعرے کو بنیاد بنا کر پوری پارلیمنٹ کویرغمال بنا لیاگیا ۔ عدلیہ کی حالت زار شوکت صدیقی نے لاہور بار کونسل کے اجلاس میں کھل کر بتا دی ۔ 

ضلع ،تحصیل یا یونین کونسل سطح پر انتظامیہ کی کیا صورت حال ہے ؟یہ آپ کسی دن اپنے کسی پرائمری اسکول ، بنیادی مرکز صحت یا ایسی کسی چھوٹے ادارے کا دورہ کرکے معلوم کر سکتے ہیں پارلیمنٹ میں اکثریت کن کی ہے ۔

سردار صادق سنجرانی کی بطور چئیرمین سینٹ ،اسد قیصر کی بطور اسپیکر اور قاسم سوری کی بطور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی ، بطور وزیراعظم عمران خان ، باپ کی بلوچستان میں اور پی ٹی آئی کی پنجاب میں انتخابات میں اکثریت سے واضح ہوگیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اصل حکمران کون ہیں ؟ 

یہ بات سلیم صافی نے انتخابات کے بعد اپنے پہلے کالم میں بتا دی جس کے بعد اس کے کالم جنگ میں آنا بند ہوگئے ۔ شوکت صدیقی کے ساتھ کیا رویہ اور سلوک روا رکھا جائے گا؟ یہ نئے پاکستان میں ملاحظہ فرمائے گا۔ 

لہذا اب پاکستان میں جاگیر دار، وڈیرہ ، سردار ، میر اور معتبر کے بچوں کو خوش ہونا چائیے کہ مملکت اللہ دادکے موجودہ سیاسی نظام میں مزید سیاسی عمل کو روکنے کا کوئی جوازموجود نہیں اس لیے اب وہ سیاسی اور جمہوری عمل کو عدلیہ اور انتظامیہ کے ساتھ بھر پور انجوائے کریں کیونکہ اب جمہوری نظام کے بساط کو لپیٹنے کے تمام مکانات معدوم ہو چکے ہیں۔