|

وقتِ اشاعت :   September 11 – 2018

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کو توسیع دی جا رہی ہے اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی غیر ملکی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے پیسے کی واپسی کے لئے وزیراعظم آفس میں دفتر قائم ہے جو اس معاملے پر کام کر رہا ہے ۔

مقدمات آڈٹ اور احتساب کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا البتہ نئے آنے والے بلدیاتی نظام پر اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کی پیر کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ سی پیک منصوبے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ۔

وزیراعظم اور دیگر وزراء کی چینی حکام سے ملاقات ہوئی ہے سی پیک کو توسیع دی جا رہی ہے اگر کوئی تیسرا ملک سی پیک میں شامل ہونا چاہتا ہے تو ضرور شامل ہو کچھ دوست ممالک نے سی پیک میں دلچسپی ظاہر کی ہے ، سی پیک کو محدود کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔

پچھلے دور حکومت میں سی پیک کے 28 ارب ڈالر کے منصوبے تھے جس میں سے 22 ارب ڈالر بجلی کے منصوبے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مری انڈسٹریل زونز سے فائدہ پہنچنا ہے اس کے لئے پلاننگ کی جا رہی ہے ۔

سی پیک منصوبے کے لئے مزید 40 ارب ڈالر کے منصوبے آنے والے ہیں ہم نے غیر ملکی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے پیسے کی واپسی کے لئے وزیراعظم آفس میں دفتر بنایا ہوا ہے کہ ہم نئے آنے والے بلدیاتی نظام پر دونوں بڑی جماعتوں سے بات کریں گے ، لیکن کچھ معاملات جیسے مقدمات اور آڈٹ کے معاملے پر ہم کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے ۔

ہمارے ایک وزیر کے خلاف ریفرنس آیا تو وہ مستعفی ہو گیا کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو کل رقم کا 20 فیصد بطور انعام دیاجائے گا سیاسی تعیناتیاں ہوتی رہتی ہیں نہیں ہٹایا جئے گا بلکہ ان کو کارکردگی کی بنیاد پر جانچا جایا جائے گا۔ 

وزیر اطلاعات نے کہا کہ آصف زرداری ، نواز شریف، اور عمران خان کے چندے کی اپیل میں فرق ہے، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو مشورہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

یہ دونوں جماعتیں 30 برس اقتدار میں رہیںیہ اس وقت ان مشوروں پر عملدرآمد کر لیں اگر ہر پاکستانی 1 ہزا ر ڈالر بھیجے تو ہمیں ڈیم کے لئے قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی صرف ایک دن میں ہمیں فواد چوہدری نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے لوگوں کو توڑنے کے حق میں نہیں ہیں، نواز شریف اپنی آمدنی کے ذرائع بتائیں ان کا آدھا خاندان مقدمات میں مغرور ہیں ۔ 

نئے بلدیاتی نظام سے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی تنظیم نو کا موقع ملے گا۔ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق برطانوی اخبار کی خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔

عبدالرزاق داؤد کا برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو سے متعلق وضاحتی بیان میں کہنا ہے کہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے حالیہ انٹرویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ کے دورے میں اسٹریٹیجک تعاون جاری رکھنے اور سی پیک منصوبوں کو پورا کرنے کے عزم کو دہرایا گیا اور اس منصوبے کے حوالے سے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کو آگاہ کیا گیا کہ سی پیک ہماری قومی ترجیح ہے ٗ چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی نے دونوں ممالک کے مفاد میں اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔

مشیر تجارت نے کہا کہ پاک چین تعلقات ناقابل تسخیر ہیں اور دونوں ممالک میں راہداری منصوبے کے مستقبل سے متعلق مکمل یکسوئی ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ کے معروف اقتصادی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرِثانی پر غور کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ سابق حکومت نے سی پیک پر چین سے بات چیت میں اپنی ذمے داری بخوبی نہیں نبھائی، تیاری کے بغیر مذاکرات اور معاہدے کرنے سے چین کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا اور چینی کمپنیوں کو ٹیکس بریک اور دیگر مراعات دینے سے پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عبدالرزاق داؤد نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ اپنے اْمور منظم کرنے تک ان معاہدوں پر فی الحال ایک سال کے لیے عملدرآمد روک دینا چاہیے اور سی پیک کی مدت کو مزید 5 سال کے لیے بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عبدالرزاق داؤد کی اس تجویز سے دیگر وزراء اور مشیر بھی متفق ہیں کہ منصوبوں کی تکمیل کی مدت اور قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانا معاہدے منسوخ کرنے سے بہتر آپشن ہوگاتاہم حکومت محتاط ہے کہ معاہدوں پر نظرثانی کے عمل میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ چینی حکومت ناراض نہ ہو۔

برطانوی اخبار کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان ملائشیا کی طرح اس معاملے کو ہینڈل نہیں کرنا چاہتا۔ ملائشیا نے چین کے تعاون سے جاری پائپ لائن پروجیکٹ بند کردئیے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ریل لنک معاہدے پر نظر ثانی کررہا ہے۔