|

وقتِ اشاعت :   September 22 – 2018

راولپنڈی: پاک فوج کا بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھپکیوں پر کرارا جواب دیتے ہوئے کہنا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے، امن چاہتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، جنگ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی جنگ کے لیے تیار نہ ہو، ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے اور تیسری نسل ہے جو قربانیاں دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی آج بھی پیشکش ہے کہ آپ آئیں اور ٹیبل پر بیٹھ کر بات کریں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جنگ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی جنگ کے لیے تیار نہ ہو، پاکستان ایٹمی قوت اور جنگ کے لیے تیار ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا شکار بنایا گیا لیکن پاکستان نے کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں امن قائم کیا، ہمیں پتا ہے کہ امن پسندی کی کیا قیمت ہے اور ہم امن پسندی کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو کرپشن کے الزامات پر تنقید کا سامنا ہے لیکن بھارتی حکومت نے حالات کا رخ موڑنے کے لیے پاکستان دشمنی کا بیانیہ اپنایا ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق  بھارت کہنا ہے کہ کشمیر میں عسکریت پسندی ہے لیکن وہ سیاسی تحریک ہے جسے دبا نہیں پارہے ہیں جب کہ بھارت میں اس کے علاوہ بھی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے، ری الائنمنٹ ہورہی ہے  اور بہت سے ملکوں سے ہمارے تعلقات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ امن کی پیشکس قبول کرنے کے بعد بھارت نے سپاہی کی بےحرمتی کاالزام لگایا لیکن ہم نے بھارت کے اس الزام کو مسترد کیا  کیوں کہ ہم ایک پروفیشنل آرمی ہیں اور  کسی فوجی کی لاش کی بےحرمتی نہیں کرسکتے خوا وہ دشمن ملک کا ہی ہو۔

پاک بھارت کشیدگی

وزیراعظم عمران خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جب کہ بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے بھی عمران خان کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد کا خط لکھا گیا تھا۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم نے بھارتی ہم منصب کو جوابی خط لکھا جس میں انہوں نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کا کہا تھا۔

بھارت کی جانب سے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان نیویارک میں ملاقات کی ہامی بھی بھرلی گئی تھی لیکن پھر بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ہی ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔

بھارت کی جانب سے وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی کا جواز بی ایس ایف اہلکاروں کی ہلاکت اور برہان وانی کے ڈاک ٹکٹ کے اجراء کو بنایا گیا۔

پاکستان کی جانب سے وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارت کی جانب سے مذاکرات سے راہ فرار قرار دیا گیا تھا۔

مذاکرات سے انکار کے بعد بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھپکیاں سامنے آئیں جس میں جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ پاکستان وہی کررہا ہے جو کرتا آیا ہے، بھارتی جنرل راوت نے مزید اقدامات کرنے کی بڑھک بھی ماردی اور کہا کہ ہم اپنی اگلی کارروائی کی تفصیلات بتا نہیں سکتے، بھارتی فوج کی کارروائی میں ہمیشہ سرپرائز ہوتا ہے۔

بھارتی آرمی چیف کے بیان پر پاک فوج کی جانب سے کرارا جواب دیا گیا۔