|

وقتِ اشاعت :   September 29 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان اور بلوچ قومی مفادات کے تحفظ کی جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بی این پی حقیقی معنوں میں شہداء کے فکر و فلسفے کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل ہے ۔

بی این پی سردار اختر جان مینگل کی ولولہ انگیز اور مخلصانہ جدوجہد کے ذریعے سرزمین اور قومی تشخص کے خلاف تمام تر سازشوں کو بے نقاب بنانے کیلئے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہو کر اصولی جدوجہد پر گامزن ہے بی این پی شہداء کے سب سے بڑی قومی جماعت ہے جنہوں نے ہر آمر اور نام نہاد جمہوری دور حکومتوں میں بلوچ عوام کی قومی مفادات کی صحیح معنوں میں تحفظ کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا نہ اصولوں پر سودا بازی کی ۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ‘ پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام نبی مری ‘ ضلعی جنرل سیکرٹری آغا خالد شاہ دلسوز ‘ ٹکری عبدالشکور لہڑی ‘ غلام مصطفی مینگل ‘ صدام حسین بلوچ نے پارٹی کے شہید رہنماء عبدالسلام ایڈووکیٹ اور کم سن بیٹی عاصمہ سلام کی ساتویں برسی کے موقع پر بی این پی کوئٹہ کے زیر اہتمام کلی ترخہ یونٹ میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عطاء مینگل نے سر انجام دیئے ہدایت اللہ جتک ‘ ثناء اللہ کھیازئی ‘ بابو کھوسہ ‘ نیاز محمد حسنی ‘ نوروز بلوچ ‘ ندیم دہوار ‘ طارق بلوچ سمیت پارٹی کے کارکنان موجود تھے تعزیتی ریفرنس کی صدارت شہید رہنماء سلام ایڈووکیٹ اور ان کی بیٹی کی تصویر سے کرائی گئی جبکہ مہمان خاص پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ‘ اعزازی مہمان پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام نبی مری تھے شہید سلام ایڈووکیٹ اور ان کی کم سن بیٹی عاصمہ سلام کی عظیم قربانیوں ‘ شہدائے بلوچستان اور دنیا کے محکوم اقوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کی خاطر اپنے جانوں کا نذرانہ دینے والوں کی عظیم قربانیوں کی خاطر کھڑے ہو کر دو منٹ خاموشی اختیار کی گئی ۔

بی این پی کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی قومی تحریک شہداء کی قربانیوں کی تحریک سے بھری پڑی ہے تاریخ گواہ ہے جب بھی مادر وطن کے خلاف سازشیں اور بلوچ قوم کو اقلیت میں بدلنے اور بلوچستان کی جیو پولیٹیکل جغرافیے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو یہاں کے فرزندوں نے اپنے قومی فریضہ کے طور پر سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنے جانوں کی قربانیوں سے دریغ نہیں کیا اور اپنے قومی تشخص ‘ بقاء ‘ سلامتی ‘ تہذیب ‘ تمدن ‘ وجود ‘ جغرافیہ ‘ زبان کی بحالی کیلئے جدوجہد کی ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے جدوجہد کا محور و مقصد بلوچ قومی حقوق اور بلوچ سرزمین کا تحفظ ہے اقتدار ‘ مراعات کے حصول کی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے 2018ء کے الیکشن میں پارٹی پر جس اعتماد کا اظہار کیا پارٹی کو تاریخی کامیابی سے ہمکنار کیا بلوچستانی عوام کے اعتماد کو کسی بھی صورت میں ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ۔

پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے جو نکات پیش کئے ہیں یہ بلوچ عوام کے حقوق کے حقیقی ترجمانی کی عکاسی کرتا ہے جن میں لاپتہ افراد کی بازیابی ‘ بلوچستان سے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کا انخلاء ‘ گوادر سی پیک میں عوام کے حق حاکمیت ‘ واک و اختیار کا حصول ‘ صحت ‘ تعلیم سمیت وفاق میں بلوچستان کے چھ فیصد کوٹہ پر عملدرآمد جیسے اجتماعی قومی مفادات شامل ہیں ۔

بی این پی وہ پہلی جماعت ہے جنہوں نے مرکز میں مراعات ‘ اقتدار کے بجائے بلوچستان کے عوام کی قومی اجتماعی مفادات کو اولیت دی اس سے پہلے یہاں کے جماعتوں نے اپنے گروہی ‘ ذاتی مفادات ‘ مراعات کے لئے مرکز سے گٹھ جوڑ کر کے حکمرانی کی لیکن سردار اختر جان مینگل اور بی این پی کی قیادت نے ایک تاریخی مثال قائم کی ہے جنہوں نے بلوچستان کے احساس محرومی ‘ پسماندگی ‘ غربت اور استحصال سے نکلنے کیلئے چھ نکات پیش کئے ان نکات کے حصول تک پارٹی جدوجہد کرتی رہے گی ۔

مقررین نے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک بار پر افغان مہاجرین کو بلوچستان میں آبادکاری کی کوشش کی جا رہی ہے جعلی دستاویزات ‘ شناختی کارڈز ‘ پاسپورٹ فراہم کئے جا رہے ہیں جو کسی بھی صورت میں قبول نہیں بلوچستان مادر وطن ہے غیر ملکیوں کی آباد کاری سے بلوچ قوم مکمل طور پر اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی ایسے منصوبوں کی گزشتہ تیس سالوں سے مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں آنے والے دنوں میں بھی ایسے اقدامات کی مخالفت کریں گے جو قومی تشخص کے خلاف ہو ۔