کوئٹہ/خضدار: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل کی وڈھ میں واقع رہائش گاہ پر حملہ کو شش ناکام محافظوں نے دو مسلح افراد کو پکڑکر مقامی لیویز کے حوالے کردیا ۔ ملزمان کے قبضہ سے دو دستی بم اور اسلحہ برآمدملزمان کا تیسرا ساتھی فرار ہوگیا واقعہ کیخلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کا صوبے بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مینگل ہاؤس وڈھ میں مسلح افراد نے اسلحہ اور دستی بموں سمیت انکے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی پر معمور محافظوں نے انہیں روک لیا۔ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مجھے بزدل افراد سے پہلے بھی دھمکیاں مل رہی تھیں ۔ علاوہ ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے سرداراخترجان مینگل کی موجودگی میں انکی رہائش گاہ میں مسلح افراد کے داخل ہونے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے بی این پی سربراہ پر حملہ کی کوشش کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے کیلئے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ واقعہ کیخلاف 11 سے 15 اکتوبر تک بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرؤں کا اعلان ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئرنائب صدر ملک ولی کاکڑ، رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ، پارٹی کے ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ،غلام نبی مری ، ساجد ترین ایڈووکیٹ، محی الدین لہڑی، فیض اللہ بلوچ ودیگر کا کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ گزشتہ رو ز دن سے وقت ساڑھے بارہ بجے کے قریب تین مشکوک افراد نے اس وقت سردار اختر جان مینگل کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی جب پارٹی قائد اپنے مہمان خانہ میں موجود تھے ۔داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مشکوک افراد کو گیٹ پر تعینات محافظوں نے روک کر تلاشی لی جس پر ملزمان کے قبضہ سے دو دستی بم اور اسلحہ برآمد ہواجبکہ ان کا تیسرا ساتھی فرار ہوگیا ملزمان مقامی لیویز کی تحویل میں ہیں ۔ رہنماؤں کا ضلعی انتظامیہ کے دو گروپوں میں جھگڑاسے متعلق موقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انتظامیہ دروغ گوئی کا سہارا لیکر خود کو بر الزمہ نہیں ٹہراسکتی ۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے پارٹی قائد کے گھر پر حملہ کی کوشش اقدام قتل کے زمرے میں آتی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی آمریت اور نام نہاد جمہوریت دونوں میں زیر عتاب رہی ہے۔ حالیہ واقعے سے قبل بھی مختلف ادوار میں بی این پی کی قیادت ،عہدیداران اورکارکنوں کو دیوار سے لگانے کیلئے منفی ہتھکنڈوں کا سہارا لیکربلوچستان کے دیگر علاقوں بالخصوص جھالاوان میں پارٹی کارکنوں کو قتل وغارت گیری کا نشانہ بنایا گیا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جن کے ہاتھ ہمارے قائدین کارکن،وڈھ میں لیویز اہلکاروں کے قتل میں رنگے ہیں وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونے کی بجائے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ، ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ توتک کی اجتماعی قبروں کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن کی رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ ممکن ہو رہنماؤں نے سرداراخترجان مینگل کے گھر پر حملے کی کوشش کرنے والے ملزمان اور ان کے پیچھے کارفرما عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واقعہ کیخلاف صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرہوں کا اعلان کیا جس کے تحت 11اکتوبر کو قلات ،نوشکی ،چاغی ،واشک، خاران 12اکتوبر کو گوادر،پنجگور، تربت ،آواران ،لسبیلہ ،حب ،14اکتوبر کو کوئٹہ ،ڈیرہ مراد جمالی ،جعفرآباد،صحبت پور ،جھل مگسی ،بولان ،ہرنائی اور لورالائی اور 15اکتوبر کو موسیٰ خیل ،بارکھان ،کوہلو اور ڈیرہ غازی خان میں واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت ضمنی انتخابات کے دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کرے۔
وڈھ، ، سرداراختر مینگل کی رہائش گاہ پر حملے کی کوشش نا کام، 2افراد گرفتار، اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ، اختر مینگل، بی این پی کا بلوچستان بھر میں احتجاج کا اعلا ن
![]()
وقتِ اشاعت : October 11 – 2018