چمن /کوئٹہ: چمن سے ملحقہ پاک افغان سرحد ی علاقے میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان باڑ لگانے کے تنازع پر جھڑپ ہوئی جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ہتھیار استعمال کئے گئے ۔
افغان فورسز کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں ۔ جھڑپ کے بعد باپ دوستی گیٹ بند کرکے دونوں ممالک کے درمیان ہر قسم کی آمدروفت اور تجارتی سرگرمیاں اورنیٹو سپلائی بھی معطل ہوگئی۔پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے باعث اضافی نفری تعینات کردی گئی۔
پاکستانی سیکورٹی حکام کے مطابق تصادم اتوار کو ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے چمن سے تقریباً70کلومیٹر دور سرحدی علاقے تنگہ درہ سرو ساہانوکے مقام پر ہوا۔ یہ علاقہ افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع شورواک سے ملحقہ ہے ۔
تصادم اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی فورسز کے اہلکار سرحد پر باڑ لگانے کا کام کررہے تھے اور افغان فورسز نے اسے فائرنگ کرکے رکوانے کی کوشش کی۔ سرحد پر تعینات پاکستان کے نیم فوجی دستوں (فرنٹیئر کور ) کے اہلکاروں نے مورچہ بند ہوکر فوری جوابی کارروائی کی تو فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ دونوں جانب سے کلاشنکوف، لائٹ مشین گن، راکٹ اور مارٹر گولے استعمال کئے گئے۔
فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا جس کے نتیجے میں افغان فورسز پسپا ہوئیں۔ پاکستانی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ایک روز قبل پاکستانی سیکورٹی اہلکار معمول کے مطابق مذکورہ علاقے میں سرحد پر آہنی باڑ لگانے کا کام کررہے تھے اس دوران افغان سرحدی فورسز نے مداخلت کرکے کام رکوادیا۔ اتوار کو پاکستانی فورسز اضافی نفری کے ساتھ علاقے میں پہنچیں اور باڑ لگانے کا کام دوبارہ شروع کردیا جس پر افغانستان کی طرف سے فائرنگ شروع ہوئی ۔
پاکستانی علاقہ بلند ہونے کی وجہ سے جلد ہی افغان اہلکار پسپا ہوگئے اور علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔ انہوں نے علاقے میں موجود تھانہ بھی خالی کردیا۔ پاکستانی سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے نتیجے میں افغان فورسز کے ایک تھانے اور چار گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ پاکستانی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں سرحد پار کوئی جانی نقصان بھی ہوا ہے یا نہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق قندھار پولیس کے سربراہ عبدالرزاق اچکزئی نے بھی جھڑپ کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے نتیجے میں کیا نقصان ہوا۔جھڑپ کے بعد سرحد پر صورتحال کشیدہ ہے ۔ دونوں جانب سے سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ پاک فوج اور ایف سی کے اضافی دستے سرحد پر پہنچادیئے گئے ہیں۔
ادھر چمن میں باب دوستی گیٹ بھی بند کردیا گیا جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ہر قسم کی آمدروفت اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئی۔ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی بھی بند ہوگئی۔ جھڑپ کے بعد متاثرہ علاقے میں باڑ لگانے کا کام روک دیا گیا۔ باب دوستی کی بندش کے باعث سرحد کے دونوں جانب سینکڑوں افراد پھنس گئے۔ حالات کشیدہ ہونے پر سرحد کے قریب آباد یوں میں بھی خوف و ہرا س پھیل گیا ہے۔
دریں اثناء افغان بارڈ پولیس کی جانب سے پاکستانی فورسز پر بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چمن میں شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے افغان پولیس کے سربراہ عبدالرازق چکزئی اور افغان سرحدی پولیس کے خلاف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔
انہوں نے پاکستانی فورسز کے حق میں اور عبدالرزاق اچکزئی کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ افغان فورسز کی جانب سے بلا اشتعال پاکستان فورسز پر فائرنگ اور پاکستانی سرحدی حدود کے اندر باڑ لگانے کے کام میں مداخلت قابل مذمت ہے ایسے اقدامات سے پاکستان کے دہشتگردی کے روک تھام کے عز م کو کسی صورت کم نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ پاکستان افغانستان سے ملحقہ 2600کلو میٹر سے زائد سرحدی پٹی پر خار دار تاروں کی باڑ لگارہا ہے جس میں بلوچستان کے سات اضلاع سے ملحقہ 1268کلومیٹر طویل سرحد بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ سال مئی میں بھی مردم شماری کے دوران پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اہلکاروں کے علاوہ درجن سے زائد عام شہری بھی جاں بحق ہوئے تھے ۔
سرحد پر باڑ لگانے کے تنازعے پر پاک افغان فورسز میں جھڑپ ، فائرنگ کا تبادلہ چمن میں افغان فورسز کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
![]()
وقتِ اشاعت : October 15 – 2018