کوئٹہ+ کراچی + اسلام آباد: بلوچستان سندھ اور اسلام آباد میں حکومت نے کالعدم تنظیموں کے اثاثے تحویل میں لیکر ان کے زیر انتظام چلنے والے مساجد و مدارس اور فلاحی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ طاہر ظفر عباسی کے مطابق حکومت بلوچستان نے حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں فلاح انسانیت اور جماعت الدعوہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے ،صوبائی حکومت کی ہدایت پرضلعی انتظامیہ نے فلاح انسانیت اور جماعت الدعوہ کے کوئٹہ میں تمام اثاثے اپنی تحویل میں لے لئے ، کوئٹہ میں ان تنظیموں کے چار مدرسے و اسکولز ،ڈسپنری ضلعی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لئے ہیں ۔
ان اداروں سے تنظیموں کے بورڈ اتار کر ضلعی انتظامیہ نے اپنے بورڈ لگا دئیے ،یہ ادارے اب ضلعی انتظامیہ کی سربراہی میں چلائے جائیں گے ، ان تنظیموں کی چار ایمبولینسز بھی تحویل میں لے کر سول ہسپتال کے حوالے کر دی گئیں جو ڈی ایچ او کوئٹہ کی نگرانی میں چلیں گی ،دوسری جانب محکمہ داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ چمن ،پشین اور حب میں بھی کالعدم تنظیموں کے مدارس سرکاری تحویل میں لے لئے جائیں گے۔
مشیر اطلاعات قانون و اینٹی کرپشن سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت دونوں تنظیموں کے تحت چلنے والے مدارس اور فلاحی ادارے سندھ حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔ اب یہ ادارے سندھ حکومت کے زیر نگرانی چلائے جائیں گے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قوانین کی پاسداری دنیا کے تمام ممالک پر عائد ہوتی ہے اور اسی طرح پاکستان بھی اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ عوام سے بھی اس ضمن میں تعاون کی درخواست ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص بھی اس میں رکاوٹ بنے گا اسے قانون کے تحت حراست میں لیا جائے گا۔ جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کے اداروں کو چلانے کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ہیں۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ کمیٹی میں محکمہ تعلیم، صحت، اوقاف اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر ممبر ہوں گے۔ کسی کو پریشانی کی ضرورت نہیں ان اداروں کی تمام فنڈنگ اب سندھ حکومت کرے گی۔
وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے کالعدم تنظیموں کے زیرانتظام مساجد و مدارس کا کنٹرول سنبھال لیا، مساجد و مدارس اسلام آبادکے مختلف علاقوں میں واقع ہیں جن مساجد اور مدارس کا کنٹرول سنبھالا، اس میں مسجد قبا، مدنی مسجد، علی اصغر مسجد، مدرسہ خالد بن ولی اور مدرسہ ضیا القرآن شامل ہیں، ان مساجد و مدارس کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں تحویل میں لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ اوقاف نے مساجد کے نئے امام اور خطیب مقرر کردیے، مولانا یاسین کو مسجد قبا سے ہٹا کر مولانا عبدالحفیظ کو خطیب جب کہ مدنی مسجد سے مولانا اظہر عباسی کو ہٹا کر مولانا عمر فاروق کو خطیب مقرر کیا گیا ہے. مسجد علی اصغر سے خطیب یار محمد کو ہٹا کر قاری محمد صدیق کو مقرر کردیا گیا ہے جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔
وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان2014کے مطابق آپریشن جاری رہیگا، کالعدم تنظیموں کیخلاف آپریشن مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا، نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد میں تیزی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔،
گذشتہ روز وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور سیکرٹری داخلہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاتھا کہ وزارتِ داخلہ نے کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن کا آغاز کر دیا ہے، کالعدم تنظیموں کے 44 ارکان حراست میں لیے لیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ نے جماعت الدعو اور فلاح انسانیت فاونڈیشن پر پابندی لگا دی تھی اور نوٹی فکیشن جاری کردیا تھا ، وزارت داخلہ کے مطابق پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عائد کی گئی، دونوں تنظیموں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ون میں شامل کر دیا گیا ہے۔
کوئٹہ کراچی اور اسلام آباد کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی ،مدارس کا کنٹرول اور اثاثے اپنے تحویل میں لے لئے گئے
![]()
وقتِ اشاعت : March 7 – 2019