|

وقتِ اشاعت :   March 27 – 2019

کوئٹہ: قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ اراکین اسمبلی مولوی نور اللہ ،یونس عزیز زہری ،عبدالواحد صدیقی ،حاجی زابد ریکی ،اصغر ترین اور مکھی شام لعل نے کہا ہے کہ پچیس مارچ کو ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین نے ٹوکن احتجاج کیاتھا حکومت کی روش یہی رہی تو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کا گھیراؤ اور دھرنا دیں گے ۔

اپنے جاری ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے مزید کہا ہے کہ پچیس تاریخ کو ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین اسمبلی نے صوبائی اسمبلی کے ایوان میں ٹوکن احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی کے فلور پر عوام کی فلاح وبہبود سے متعلق حکومت کی مجرمانہ غفلت کو صوبے کے عوام کے سامنے آشکار کیا ۔

انہوں نے کہا کہ آٹھ ماہ میں حکومت نے عوام کی فلاح وبہبود سے متعلق کوئی قابل ذکر اقدام نہیں اٹھایا پی ایس ڈی پی میں حزب اختلاف میں شامل چوبیس اراکین اسمبلی کے حلقوں کو نظر انداز کر کے حکومت نے صوبے کی نصف آبادی پر ترقی کی دروازے بند کئے ہیں اگر حکومت کی روش یہی رہی تو حزب اختلاف کی جماعتیں بلوچستان اسمبلی کے اندر اور باہر اپنے احتجاج کوجاری رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حلقے کے عوام سمیت صوبے بھر کے لوگوں کو جواب دے ہیں ان کے اعتماد کو کسی صورت ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ، انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے عوام کے غصب کئے گئے حقوق کے حصول کیلئے سخت سے سخت احتجاج کا راستہ اختیار کر کے حکومتی پہیہ کو مکمل طور پر جام کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ روز ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں یہ بات واضح کی ہے کہ ترقیاتی عمل میں جتنا حق وزیراعلیٰ اور حکومتی اراکین کے حلقے کے لوگوں کا ہے اتنا ہی حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کا ہیں عوام کے حقوق کے حصول کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ 

دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی اراکین صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو، احمد نواز بلوچ ، بابو رحیم مینگل ، ٹائٹس جانسن نے کہا ہے کہ اگر حکومت بی این پی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی اور فنڈز لیپس ہوتے ہیں تو یہ حکومت کی ناکامی ہوگی تاحال حکومت اپنے وعدوں اور عملی اقدامات میں ناکام نظر آرہی ہے اگر یہی روش برقرار رہی تو ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بلوچستان اسمبلی کے سامنے اور صوبہ بھر میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے ہم بلوچستان اور عوام کے حقوق کے حصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔

یہ بات انہوں نے مختلف وفود سے گفتگو کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد سیاسی جماعتوں اور عوام کو خوشنما نعروں اور وعدوں کے ذریعے ان کے دیرینہ مسائل کے حل اور جملہ حقوق دینے کا جو اعلان کیا تھا تاحال 7 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود موجودہ حکومت اپنے وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہناسکی جس کی وجہ سے بی این پی نے اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر پی ایس ڈی پی سمیت لوگوں کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے احتجاج شروع کررکھا ہے ۔

حالانکہ حکومت اور ارباب اختیار کے ساتھ مختلف مواقعوں پر پی ایس ڈی پی سمیت مختلف مسائل کے حل کیلئے بات چیت کے ذریعے فنڈز کے ریلیز کرنے اور مسائل کے حل کو یقینی بنانے کیلئے گفت و شنید ہوئی تاحال حکمران اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔

حکمرانوں کی نا اہلی عیاں ہورہی ہے ہمیں اندیشہ ہے کہ ماضی کی طرح موجودہ حکومت بھی اپنی نالائیقی کی وجہ سے فنڈز لیپس کردے گی جس سے ان کی نااہلی روز روشن کی طرح عیاں ہوگی اگر حکومت نے اپنا وتیرہ نہ بدلہ تو بی این پی اپنے اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں کے ہمراہ بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان بھر میں سڑکوں پر احتجاج کریگی جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری موجودہ نا اہل حکومت پر عائد ہو گی۔