|

وقتِ اشاعت :   February 3 – 2020

کراچی: وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اب کوئی ناراض بلوچ موجود نہیں۔ صرف سہولیات سے محروم بلوچ ناراض ہیں۔بلوچستان حکومت اس مسئلے کوبھی جلد حل کرلے گی۔ملکی سیاست میں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام رہا ہے۔

اسپیکر بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے کچھ تحفظات تھے جنہیں اب دور کردیا۔کراچی میں میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کہیں نہیں جارہی۔ کسی بھی حکومت کا تجزیہ تقاریر کے بجائے عملی کام، گورننس اور ترقی پر ہونا چاہیے۔ سیاسی اتار چڑھاؤ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ صرف 5 سال پورے نہیں کرنے کام بھی کرنا ہے۔ بلوچستان میں اب کوئی ناراض نہیں ہے۔

صحت، تعلیم، پانی اور بنیادی سہولتوں سے محروم شہری ضرور ناراض ہے۔ ہمیں انہی لوگوں کی محرومی کو دور کرنا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ سی پیک کے پہلے انفرااسٹرکچر فیز میں بلوچستان کو کچھ نہیں ملا۔ آنے والے دنوں میں گوادر پورٹ کے ذریعے ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔جام کمال کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اختیار اور وسائل دونوں موجودہیں۔یہی وسائل ماضی کی حکومتوں کے پاس بھی تھے۔ہمیں اپنی گورننس بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی حق تلفی کے ذمے دار ہم خود ہیں۔ماسٹر پلان پر عمل کے لیے ہم نے وفاق سے پیسے نہیں مانگے۔

ماضی میں منصوبوں کے لیے رقم ہی مختص نہیں کی جاتی تھی۔ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لیے ماسٹر پلان بنایا جارہا ہے۔حکومت سندھ اور پنجاب نے بھی مدد کی پیشکش کی ہے۔ تمام صوبے ملکر ہی سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔وزیراعلی جام کمال نے کہا کہ موجود حکومت سڑکوں کی تعمیر، سہولتیں، تعلیمی درسگاہوں کے قیام کے بڑے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں کی قابلیت بڑھانی ہے تاکہ وہ ترقی کے ہمسفر رہ سکیں۔