کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے جشن آزادی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان بہترین قدرتی وسائل کے باوجود ماضی کی ناانصافیوں، حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور عدم توجہی کے باعث آج بھی غربت اور جہالت کا شکار ہے، ہمارا صوبہ دہشت گردی کی جس عفریت کا شکار ہے وہ ہم سب کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔
اور ہم نے دشمن کے اس چیلنج کو قبول کیا ہے اور دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کا پختہ عزم کررکھا ہے، تقریب میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو، اراکین کابینہ، اراکین صوبائی اسمبلی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سماجی اور سیاسی معززین، قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی کے نمائندے اور بلوچستان کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والی عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، وزیراعلیٰ نے تقریب کے شرکاء کو جشن آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ دن خدا کی طرف سے ہمارے لئے ایک خاص تحفہ ہے، آج کا دن ان تمام شہداء کی قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے۔
جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور خدا نے ہمیں اس ارض پاک جیسی خوبصورت نعمت سے نوازا، یہ دن ہمارے اندر ایک احساس پیدا کرتا ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ایک متحد قوم ہیں اور ہمارے اندر اس احساس کو اجاگر کرتی ہے کہ اس دن کی کیا اہمیت ہے، کیونکہ ہم شاید ان قربانیوں سے نہیں گزرے جو ہمارے اکابرین اور اسلاف نے دی، ان سب کی جدوجہد اور انتھک محنت ہی تھی جس کے باعث 14اگست 1947ء کو ہمیں یہ ملک ملا، انہوں نے کہا کہ آزادی کا احساس ان لوگوں کو زیادہ ہوتا ہے جو قیدوبند میں رہتے ہیں۔
اور اس آزادی کا مشاہدہ ہم خود بھی کرتے ہیں اور حالیہ عالمی وباء کورونا وائرس کے باعث جو پورے ملک میں لاک ڈاؤن کی صورتحال ہوئی تو ہم نے اس آزادی کی نعمت کو زیادہ محسوس کیا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے، انہوں نے کہا کہ آج ہم دنیا کے بہت سے ان ممالک سے بہتر ہے جو آج آزادی جیسی نعمت سے محروم ہے اور وہ ایک آزاد انہ فضا میں زندگی نہیں گزاررہے، جنگوں، اقتصادی ومعاشی معاملات اور دیگر کئی مسائل کے سبب بہت سے ممالک آج بھی آزادی جیسی نعمت کا خواب دیکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا گھر ہے۔
اس کی سجاوٹ کو نکھارا، اس میں بہتری، مسائل کے حل اور تمام معاملات میں ہمارا مثبت عمل ہونا چاہئے اور اس میں معاشرے کے تمام مکاتب فکر اور اسٹک ہولڈرز کا تعمیری کردار ہونا چاہئے کیونکہ یہ ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اسے مزید خوب سے خوب تر بنائیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک رکھتے ہوئے ان سے بری الذمہ نہیں ہونا چاہئے، اور آج کے دن کی مناسبت سے ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں، انہوں نے کہا کہ آج بھی ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، ہمارا دشمن ملک بھارت آج ہر حوالے سے ہمیں امن وامان، ترقی، اقتصادی ومعاشی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکے، لیکن اس کے باجود ہم ایک پروقار انداز میں اپنا جشن آزادی منارہے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ قربانی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی، اس صوبے کے لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے، ہماری سیکیورٹی فورسز، اساتذہ اور ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے بے پناہ قربانیاں دیں، اگر ہم آج امن کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں تو اس کے پیچھے صوبے کے عوام کی لازوال قربانیاں ہیں اور آج ہم اس سب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے شرپسند عناصر کو شکست دی، آج دشمن کی اتنی جرأت نہیں کہ وہ ہمیں لسانیت اور قومت پر لڑا سکے، صوبے کے عوام نے ہمیشہ یک زبان ہوکر ملک اور صوبے کا تحفظ کیا ہے، صوبے کے محب وطن، امن پسند عوام کے تعاون کا اہم کردار ہے۔
جس کے باعث آج ہمارے صوبے میں سرمایہ کاری ہورہی ہے، ہمیں یقین ہے کہ آنے والے وقتوں میں بلوچستان میں سرمایہ کاری اور بہتر ہوگی اور ہم بلوچستان کو حقیقتاً امن اور ترقی کا گہوارہ بنانے میں کامیاب ہوں گے، انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور صوبے کے عوام ہمیشہ اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور محکوم کشمیری ان کی جدوجہد آزادی میں ہر حوالے سے بلوچستان کے لوگوں کو اپنی پشت پر پائیں گے اور آج کے دن ہم انہیں ایک پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی آزادی کی کاوشیں ضرور رنگ لائیں گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کا دن سب سے بڑا چیلنج صوبے کے مسائل کا احسن حل ہے۔
ہماری مخلوط صوبائی حکومت کی بھی یہی کوشش ہے کہ ہم اس میں بہتری لائے، قومیں ایک ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے خود کو خود کو بناتی ہیں یہ ایک طویل جدوجہد ہوتی ہے، انہوں نے کہ آج کا دن یوم احتساب بھی ہے، زندہ قومیں خود احتسابی پر یقین رکھتی ہیں اور اپنی غلطیوں اور خامیوں کا جائزہ لے کر انہیں درست کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہیں، آج کے حالات می ملک کسی بھی سیاسی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہمیں جمہوری رویوں کے ساتھ مسائل اور مشکلات کا حل نکالنا ہوگا اور جمہوری مسائل کا حل جمہوریت کے ذریعہ ہیں ممکن ہے۔
انہوں نے عالمی وباء کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ملک اور صوبے کی تاریخ میں کورونا وائرس کی شکل میں وبائی مرض کے ایسے سنگین معاملات دیکھنے میں نہیں آئے، ہم بحیثیت قوم اسے وقت ایک غیر معمولی صورتحال سے نمٹ رہے ہیں اور اس وباء کے اثرات ہماری معاشرتی زندگی اور ملکی معیشت پر واضح نظر آرہے ہیں، یہ وقت اس امر کا متقاضی ہے کہ ہم یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے آج کے دن کی مناسبت سے ملک کے محسنوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سب اس عہد کی تجدید کریں۔
کہ ہم تمام سیاسی اختلافات، تعصبات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر اپنی توانائیاں وطن عزیز کی ترقی اور ملک وقوم کی فلاح بہبود کے لئے وقف کریں گے، آج کے اس پرمسرت موقع پر ہم قائداعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے حقیقی تصور پاکستان کی تصویر کو مثبت اور تعمیری انداز سے عالمی افق پر اجاگر کریں گے تاکہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہوئے ہمارا مستقبل روشن اور تابناک ہو۔