اسلام آباد: ایف سی کے ہاتھوں میں شہید ہونے والے طالب علم حیات بلوچ کی شہادت پر سینٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے 28 اگست کے اجلاس میں آئی جی ایف سی کو طلب کرلیا۔میڈیا رپوٹ کے مطابق جامعہ کراچی کے طالبعلم حیات بلوچ کو تربت کے علاقے آبسر میں ایف سی کی گاڑی کے قریب دھماکے کے بعد ایف سی اہلکاروں نے ساتھ میں کھیت میں کام کرتے ہوئے نوجوان حیات بلوچ کو گرفتار کر کے انکے والدین کے سامنے 8گولیاں مار کر شہید کردیا واقعہ کے بعد آئی جی ایف سی ساؤتھ نے محکمانہ انکوائری کرکے سپاہی کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
سنیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اس حوالے سے 28 اگست کو اجلاس بلایا ہے جس میں آئی جی ایف سی اور آئی جی پولیس پیش ہوں گے۔ دریں اثناء انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی بلوچستان میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک سپاہی کے ہاتھوں کراچی یونیورسٹی کے طالب علم محمد حیات مرزا کی ہلاکت کو ناقابل قبول فعل قرار دے دیا۔
نسانی حقوق کی وفاقی وزیر نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایف سی اہلکاروں نے حیات بلوچ کو ان کے والدین کے سامنے قتل کیا جو ناقابل قبول فعل ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف سی کے متعلقہ اہلکار کو پولیس کے حوالے کیا جاچکا ہے اور ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہے۔شیریں مزاری نے کہا کہ انکوائری میں اس امر کی کھوج ضروری ہے کہ اس طرح کسی شہری کو قتل کرنے کی اجازت کس طرح دی جا سکتی ہے؟۔