خضدار: بی این پی کے قائدسابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اخترجان مینگل نے کہاہے کہ ہماری سیاست کھلی کتاب کی مانند ہے، ہم نے چھ نقاط کا جو فارمولا دیا تھا وہ تاریخ کا حصہ اور ہماری کاز کی روشن مثال ہے بلوچ قوم و بلوچستان کے لئے ہماری جہد جاری ہے، سیاست کی اس کٹھن راہ میں ہمارے عزائم کبھی بھی متزلزل نہیں ہوئے اور نہ ہی ہونگے، ملک کی بڑی اور اکثریتی جماعتیں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف متحد و متفق و صف آراء ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں بلوچستان نیشنل پارٹی کی ضلعی کونسل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ضلعی کونسل کے اجلاس میں سکریٹری رپورٹ پیش کیاگیا اور کونسلروں نے پارٹی امورودیگرمسائل پرگفتگوکی گئی اس موقع پر پارٹی کے ضلعی صدرسنٹرل کمیٹی کے رکن سردارنصیراحمدموسیانی جنرل سیکریٹری ڈاکٹرعزیزبلوچ میرعبدالروف مینگل مرکزی ڈپٹی سکریٹری جنرل لعل جان بلوچ ڈاکٹرعبدالقدوس بلوچ شفیق الرحمان ساسولی ایم پی اے محمد اکبرمینگل محمدخان مینگل حاجی محمد اقبال بلوچ ایڈوکیٹ غلام نبی مینگل ایڈوکیٹ خالدمحمود سفرخان مینگل عالم فراز مینگل مجاہد عمرانی محمداسلم گرگناڑی ندیم گرگناڑی۔
احمد بلوچ بشیراحمدریئسانی خلیل احمد محمدزئی اسماعیل جان محمدزئی،سفر خان مینگل، محمد عالم فراز مینگل سمیت سینکڑوں یونٹ سکریٹری ڈپٹی یونٹ سکریٹری و کونسلران موجود تھے۔ سرداراخترجان مینگل کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بی این پی کی سیاست کا محور مظلوم اقوام کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم وبلوچ سرزمین کی خوشحالی وترقی ہے یہ ہمیں جوکچھ خیرات میں مل رہاہے وہ ہم اپنے حلقے کے لوگوں پر منصفانہ تقسیم اوراجتماعی کاموں پر لگارہے ہیں گوکہ ہمارے منتخب ایم پی ایز کے مقابلے میں اپنے منظورنظرغیرمنتخب نمائندوں کو زیادہ فنڈز دیاجارہاہے۔
جسکی وجہ سے ہمارے حلقوں میں ترقیاتی کام کی رفتارسست روی کا شکارہے۔ ہمیں اگراپنے مفادات عزیز ہوتے تو دس ایم پی اے اورچارایم این اے آج وزارت اعلی’ سمیت اچھے اچھے وزارتوں کے مزے لیتے مگرہم نے چھ نکات سمیت یہاں کے لوگوں کی خوشحالی وترقی سمیت ساحل وسائل پردسترس کی بات کی جب ہمارے مسائل پردھیان نہیں دیاگیا اورہمیں مسلسل نظراندازکیاگیا۔
تو ہم نے مرکزی حکومت سے اپنی راہیں جدا کرلیں۔ جب ہمارے ماؤں بہنوں اوبچیوں کے دکھوں آنسوؤں کا مداوا نہیں ہوتا تو حکومت کے ساتھ رہنے کا کیا فائدہ۔ سرداراخترجامینگل نے کہاکہ مستقبل میں ہمارے چھ نقاط تاریخ کا حصہ ہیں گوکہ حکمران نہیں مانتے مگر ان نقاط پردستخط تو کئے ہیں اور مستقبل میں یہ نقاط حکمرانوں کے گلے میں ہڈی بنیں گے۔ جب ہمارے مائیں آکر ہمارے سامنے آنسو بہائینگے تو کیا۔
ہم ان آنسوؤں کو بھول سکتے ہیں۔ عدلیہ اور آرمی اسٹیبلشمنٹ جب آئین سے انحراف کرکے غیرآئینی اقدامات اٹھائیں ہم چپ رہیں یہ ناممکن ہے۔ ہم تو پہلے سے ان کے ڈسے ہوئے تھے ہم باربارواویلاکرتے رہے مگرہماری آوازکوئی سننے والانہیں تھا اب ان قوتوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالا گیاہے جنہیں ہمارے باتوں پریقین نہیں آرہاتھا یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اب ہاتھ اپنوں کے گریبان تک پہنچ چکی ہے۔
پہلے ہم غدارتھے اب لسٹ میں وہ بھی شامل ہوگئے ہیں جو ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم میں ملک کے تمام سیاسی بڑی جماعتیں شامل ہیں یہ پہلی دفعہ ہے کہ پاکستان کے بڑی جماعتوں کے ساتھ چھوٹی جماعتیں متفقہ طورپر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ اورجب تک غیرآئینی اقدامات کو نہیں روکا جائیگا اس وقت تک یہ ملک نہ ترقی کریگی۔ نہ یہاں پرامن آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اپنے شیڈول کے مطابق جلسے کریگی تاہم وزیراعظم نے کہا ہے کہ جلسے کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائیگی اب دیکھتے ہیں کہ جلسے ہوتے ہیں یا جیل جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت منتخب نمائندوں کو تیراہ کروڑ روپے کی اسکیماتے دے رہے ہیں جبکہ غیرمنتخب افرادکو اربوں روپے کے اسکیمات سے نوازا جارہاہے آپ لوگ غیرمنتخب لوگوں کو چائے کی پیالی دیکر ان سے اسکیمیں لے لیں وہ پیسے بھی آپ کے ہیں جب ووٹ کی باری آئیگا وہ آپ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرینگے۔