وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ صوبے میں اگرچہ پسماندگی ہے تاہم بلوچستان سمیت پورے ملک میں سب سے زیادہ صحت کے شعبے میں غریب عوام کو یقینی طورپر مشکلات کا سامنا ہے اور اگر کوئی انسان کسی مہلک مرض میں مبتلا ہوجائے تو اس کے علاج معالجے پر نہ صرف اس کی بلکہ پورے خاندان کی مالی حالت خراب ہوجاتی ہے اکثر خاندان معاشی طو رپر تباہ ہوجاتے ہیں پھر بدقسمتی سے اکثر ایسے مہلک امراض میں مبتلا مریضوں کو درست رہنمائی بھی نہیں ملتی جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔
انہوںنے کہا کہ ماضی میں صوبے میں وزیراعلیٰ کے پاس بہت زیادہ اختیارات ہوا کرتے تھے وزیراعلیٰ اپنے صوابدیدی فنڈسے بھی منصوبوں کا اعلان کرتے تھے مگر اب صورتحال ایسی نہیں ہے چار سال قبل میرے حلقے سے کینسر کے مرض میں مبتلا ایک شخص اپنے علاج کے لئے میرے پاس آیا جسے صوبائی حکومت سے علاج معالجے کے لئے فنڈز کی ضرورت تھی اس وقت میرے حلقے سے پرنس احمد علی صوبائی اسمبلی کے رکن تھے
جن کے ذریعے ہم نے اس وقت کی صوبائی حکومت سے رابطہ کیا کہ علاج معالجے کے لئے تعاون کیا جائے کچھ عرصہ بعد وہ شخص دوبارہ میرے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے انہیں کہا گیا ہے کہ فنڈز کی منظوری اس صورت ہوگی
کہ نصف رقم مریض کی اور نصف رقم متعلقہ حکام کی ہوگی جس پر مجھے بہت افسوس ہوا اور جب ہماری حکومت بنی تو ہم نے بیٹھ کر اس حوالے سے طویل غور وخوض کیا کہ ایسے غریب اور نادار مریضوں کا حکومتی سطح پر کیسے علاج کرایا جائے
کہ جن کے علاج پر لاکھوں روپے کے اخراجات آتے ہیں اور پھر ہم چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا علاج کراسکیں جس پر صوبائی حکومت نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے تحت انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا اور اس کے لئے ایک بورڈ بھی قائم کیاگیا جس کی منظوری کے بعد مہلک امراض میں مبتلا افراد کے علاج معالجے کے لئے فنڈز دیئے جاتے ہیں ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہر حال میں انڈوومنٹ فنڈ کے درست استعمال کو یقینی بنایا جائے جس کے لئے تمام مراحل پورے کئے جاتے ہیں ۔
تاہم ہماری کوشش ہے کہ زیادہ تشویشناک مریضوں کے علاج معالجے کے لئے کوئی آسان اور فوری طریق کار بناکر فنڈز فراہم کئے جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہت جلد پورے صوبے کے عوام کے لئے ہیلتھ کارڈ انشورنس لارہے ہیں
جس کے تحت صوبے کے ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس کارڈ دے کر بنیادی سطح پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کریں گے انہوںنے کہا کہ سردار عبدالرحمان کھیتران نے جس واقعے سے اپنی تحریک استحقاق پیش کی ہے اس حوالے سے انہوںنے مجھ سے بھی بات کی تھی یقینی طو رپر جب کوئی شخص کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کے پاس علاج کے لئے بھاری اخراجات نہیں ہوتے تو وہ اپنے نمائندے سے رابطہ کرتا ہے ۔
نمائندے کو اس مریض کی بیماری کا زیادہ علم ہوتا ہے خواہش ہے کہ ایسے کیسز جس میں فوری طو رپر پیسوں کی ضرورت ہو وہ مل جائیں تاہم صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کا اس سلسلے میں ایک پورا طریق کار موجود ہے جسے پورا کرنا پڑتا ہے
سردار عبدالرحمان کھیتران کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس کی یقینی طو رپر شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو بھی ذمہ دار ہوں ان کا تعین ہونا چاہئے انہوںنے کہا کہ انڈوومنٹ فنڈ کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں اب تک اس فنڈسے 1200مریضوں کے علاج پرکثیررقم خرچ کرچکے ہیں ایک ایک مریض پر ستر سے اسی لاکھ روپے بھی ہم خرچ کرچکے ہیں کوئٹہ میں کینسر ہسپتال تکمیل کے مراحل میں ہے وہاں پر بچوں کے کینسرکے علاج کے لئے بھی ہسپتال بنارہے ہیں ہسپتال کے قیام کے بعد ہمیں صوبے کے مریضوں کو صوبے سے باہر نہیں بھیجنا پڑے گا
انہوںنے کہا کہ اگر چہ تمام شعبوں میں مسائل ہیں تاہم محکمہ صحت ، دوسرے محکموں سے یکسر مختلف ہے اور اس کی جانب زیادہ توجہ دینے اور کام کرنے کی ضرورت ہے کوشش ہے کہ آئندہ صوبائی بجٹ میں انڈوومنٹ فنڈ کے لئے زیادہ رقم مختص کرسکیں تاکہ زیادہ لوگوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرسکیں ۔ قبل ازیں صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے اپنی تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان انڈوومنٹ فنڈ صوبائی حکومت کی جانب سے ایسے نادار مریضوں کے علاج کے لئے قائم کیاگیا ہے جو اپنے علاج معالجے پر بھاری اخراجات کی سکت نہیں رکھتے انہیں اس فنڈ سے علاج کے لئے پیسے دیئے جاتے ہیں میں نے اپنے حلقے کے جس مریض کے لئے گیسٹرو ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر شربت خان سے رابطہ کیا کہ مریض کو لیور ٹرانسپلانٹ کے لئے ملتان لیجایا گیا ہے جہاںسے انہیں ٹرانسپلانٹ کرانے کے لئے اسلام آباد بھیجاگیا
اورمذکورہ مریض کے علاج پر بھاری اخراجات آنے ہیں لہٰذا اس کی فائل پر دستخط کرکے اسے اسلام آباد ریفر کیا جائے تاہم مذکورہ ڈاکٹر نے میرے بار بار رابطہ اور بار بار درخواستوں کے باوجود دستخط سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ خود مریض کامعائنہ نہیں کرتے اس وقت تک وہ دستخط نہیں کریں گے جبکہ انہیں بتایاگیا کہ مریض کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور کوئٹہ لانا بڑا مشکل ہے میں نے مذکورہ ڈاکٹر سے درخواست کی کہ میں ان کے اسلام آباد آنے جانے اور وہاں ان کے ایک رات قیام کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں وہ خود جا کر مریض کی حالت دیکھ کر اس کی درخواست پر دستخط کردیں
جس پر مذکورہ ڈاکٹر نے انتہائی ناروا رویہ اختیار کرتے ہوئے جانے سے انکار کیا میں نے ان سے استدعا کی کہ وہ اپنے شعبے سے کسی اور ڈاکٹر کو بھی بھیجنا چاہیں تو ان کے بھی اخراجات ادا کئے جائیںگے مگر وہ اس پر بھی تیار نہ ہوئے جس پر بڑی مشکل میں مریض کو اسلام آباد سے کوئٹہ لایا گیا جب مریض کو وارڈ میں لیجایاگیا تو وہاں نہ تو میرا گارڈ او رنہ کوئی دوسرا شخص وہاں گیا
مگر بدقسمتی سے دوسرے روز وہ مریض انتقال کرگیا اس دوران میں بیمار تھا مجھ سے پولیس حکام نے رابطہ کرکے استفسار کیا کہ آیا گزشتہ روز میرا کوئی گارڈ یا کوئی دوسرا شخص ہسپتال گیا تھا اور کیا اس نے وہاں مذکورہ ڈاکٹر سے بدتمیزی کی ہے جس پر میں نے انہیں بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تاہم اگلے روز مجھے بتایاگیا کہ وائی ڈی اے نے ہڑتال کردی ہے او ران کا مطالبہ ہے کہ میرے اور میرے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے
انہوںنے کہا کہ مذکورہ ڈاکٹر سے جب میں نے اس بابت بات کی تو انہوںنے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے ماتحت نہیں بلکہ یونیورسٹی کے ملازم ہیں او ران کا رویہ ایک مرتبہ پھر ٹھیک نہیں تھا انہوںنے کہا کہ جس روز مریض کو ڈاکٹر کے پاس لیجایا گیا تو ان کے ساتھ ان کے ایک جاننے والا شکور مری بھی ساتھ تھے اب میں نہیںجانتا کہ وہاں کیا ہوا ؟ کس نے زیادتی کی تاہم ڈاکٹر شربت خان کے رویے سے میرا استحقاق مجروح ہوا ہے میری تحریک کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے ۔
صوبائی وزیر اسد بلوچ نے کہا کہ صوبے کی پسماندگی اور غربت کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ انڈوومنٹ فنڈ قائم کیاگیا ہے جس کی سیڈ منی سے ہر تین ماہ بعد منافع ملتا ہے جس پر مریض کے علاج کے لئے بورڈ کے اجلاس میں منظوری دی جاتی ہے رواں سال کے بجٹ کی تیاری کے موقع پر بھی میں نے تجویز دی تھی کہ مذکورہ فنڈ جو چار ارب روپے کا ہے
اس میں اضافہ کیا جائے مگر ایسا نہیں ہوسکا انہوںنے کہا کہ مہلک امراض کے شکار مریضوں کے علاج معالجے پر چالیس پچاس لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آتے ہیں اس لئے ڈاکٹروں سمیت متعلقہ سرکاری افسران احتیاط کامظاہرہ کرتے ہیں اور کوئی ڈاکٹر مریض کا معائنہ کئے بغیر سرٹیفکیٹ نہیں دیتا بعدازاں ڈپٹی سپیکر نے تحریک استحقاق متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی رولنگ دی ۔
ماضی میں وزیراعلیٰ کے پاس بہت زیادہ اختیارات ہوا کرتے تھے:وزیراعلیٰ بلوچستان
![]()
وقتِ اشاعت : November 24 – 2020