گوادر: وزیراعلی بلوچستان جام کمال کے احکامات کی روشنی میں گوادر باڈ کی تعمیر روک دی گئی گوادر میں باڑ لگانے کافیصلہ شہریوں کی مرضی اور ضرورت کے مطابق کیا جائیگا، ہمارے پیش نظر گوادرکے شہریوں کے تحفظات ہیں اس بات کااعلان وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نے پارلیمانی وفد کے ہمراہ گوادر میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کے دوران اعلان میں کیا،،،وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے کہا کہ،وزیراعلی جام کمال کی قیادت میں صوبائی حکومت گوادر کی ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کیلئے کوشاں ہے گوادر باڑ سے متعلق عوامی تحفظات دورکرکے ہی آگے بڑھیں گے ۔
گوادر کے شہریوں کی باڑ سے متعلق تجاویز تحفظات پر پارلیمانی وفد اپنی سفارشات جلد وزیر اعلی بلوچستان کو پیش کریگی وزیرداخلہ نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کی ہدایت پر ہم یہاں کے عوام کے خدشات سننے کیلئے گوادر آئے ہیں،. عوامی حکومت عوام کے خواہشات مفادات کو ترجیح دیتی ہے ہم ایسا کوئی عمل نہیں کریں گے جو عوام کے خواہشات کے برعکس ہو، انھوں نے اپنے خطاب میں گوادر کے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی جام کمال خان نے عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے باڑ پر جاری کام کو روکنے کا حکم دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دورہ گوادر کے دوران متعلقہ اداروں اور عوام کے خیالات اور تاثرات معلوم کرلئے ہیں، ان تمام تجاویز اور سفارشات کو مرتب کرکے وزیر اعلی بلوچستان کو پیش کیا جائے گا۔ کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے باڑ سے متعلق اپنی تجاویزاور تحفظات سے پارلیمانی وفد کو آگاہ کردیا. اس موقع پر کمشنر مکران طارق قمر اور ڈپٹی کمشنر گوادر عبدالکبیر خان زرکون بھی موجود تھے.کھلی کچہری سے پارلیمانی سیکریٹری دنیش کمار پالیانی نے خطاب میں کہا کہ گوادر باڑ سے متعلق عوامی تحفظات کو وزیراعلی جام کمال نے سخت نوٹس لیا ہے فینسنگ گوادر ماسٹر پلان کاحصہ ہے لیکن ہم خواہشات اورتجاویز کی روشنی میں اس ایشو کو بھی حل کرینگے اس سلسلے میں باقاعدہ عوامی شنواء منعقد کی جائیگی عوامی رائے کااحترام ہماری پارٹی کابنیادی منشورہے۔
بلوچستان اور گوادر کے لوگوں کی توقعات بلوچستان عوامی پارٹی سے وابستہ ہیں انہیں کبھی مایوس نہیں ہونے دینگے انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ گوادر کے عوام کی منشاء کے مطابق اس ایشو کو حل کیا جائیگا ، وزیراعلی کی ہدایت پردورہ کرنیوالی ہارلیمانی وفد نیگوادرباڑ کی سائٹ کا معائنہ بھی کیا ڈپٹی کمشنر گوادر عبدالکبیر زرکون کی جانب سیہارلیمانی وفدکو بریفنگ دی گئی۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہّٰ لانگو، صوبائی مشیر دنیش کمار، مشیر فشریز اکبر اسکانی، ایم پی اے وپارلیمانی سیکرٹری عبدالرشید دشتی اوررکن صوبائی اسمبلی ماہ جبین شیران کی گوادر آمد اور کھلی کچہری انعقادپر گوادر کے عوامی حلقوں نے اظہار مسرت اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں ہر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وزیراعلی جام کمال کی قیادت میں صوبائی حکومت گوادر کی ترقی اور ماہیگیروں کا معیار زندگی بلندرکھنے کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ گوادر اسمارٹ سٹی منصوبے کو اپوزیشن اور پی ڈی ایم سیاسی بنا نا چاہتی ہے گوادر کے تمام فیصلے وہاں لوگوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت ،مرضی اور منشی کے مطابق کریں گے۔
ماضی میں ایسٹ بے اور پرانی آبادی کے مسئلے پر سیاست کی ہم نے یہ دونوں مسائل حل کئے ۔یہ بات انہوں نے منگل کو اپنے ٹو ئٹ اور ویڈیو پیغام میں کہی، وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ گوادر کے معاملے کو پی ڈی ایم اور اپوزیشن کی طرف سے بہت زیادہ سیاسی بنایا جارہا ہے گوادر کے ایسٹ بے معاملے کو بھی سیاسی بنایا گیا جو ہم نے حل کیا، صوبائی حکومت نے گوادر کی پرانی آبادی کا مسئلہ حل کیااور اب جب گوادر سیف سٹی کو اپوزیشن سیاسی بنا تے ہوئے اسے باڑ کا نام دی رہی ہے جو کہ باڑ نہیں ہے ہم اس مسئلے کو بھی حل کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ گوادر سیف سٹی منصوبہ کئی سالوں سے تاخیر کا شکار تھا اس پر کسی بھی قسم کا کام نہیں کیا گیا ہماری حکومت نے کوئٹہ سیف سٹی کے ساتھ ساتھ گوادر اسمارٹ سٹی منصوبے پر کام کا آغاز کیا گوادر سمارٹ سٹی منصوبے میں چیزوں کی تعمیر،سی سی ٹی وی کیمرے، ماسٹرپلان کے ساتھ ملاپ کرنااور ایک ایسا منصوبہ شامل تھا جس میں ضلع گوادر سے باہر پہاڑی اور ویران غیرمعمولی راستوں اور علاقوں سے آمد و رفت کے سلسلے کو روکنے کے لئے عارضی باڑ لگانے کا کام تھا اب چونکہ وہ میگا منصوبہ ہے اور کچھ مقامات ایسے ہیں جنکی انسانی طور پر نگرانی نہیں کی جاسکتی اور یہ دنیا میں ہر جگہ ہوتا ہے۔
اسی منصوبے کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ گوادر شہر میں شہریوں سے مشورہ کر کے ایک حکمت عملی بنائی جائے گی انہوں نے کہا کہ گوادر میں باڑ لگانے کا منصوبہ نہیں بلکہ سیکورٹی انتظامات کے تحت کئے جانے والے اقدامات ہیں جنہیں لیا جانا ضروری تھا یا پھر ہم گوادر کے اردگرد ہر جگہ پولیس، لیویز،ایف سی اور فوج کی 50چیک پوسٹیں بنادیتے جو ہر جگہ لوگوں کو روک کر پوچھتے کہ کہاں جارہے ہیں جس سے شہریوں کو تکلیف پہنچتی انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور بلخصوص گوادر میں سیکورٹی کے حوالے کچھ ایسے واقعات ہوئے جو پاکستان ،بلوچستان اور گوادر کی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ گوادر سمارٹ سٹی کے میکنرم کے حوالے سے حکومتی وفد گوادر بھی گیا ہے ہم کوئی ایسا اقدام نہیں کریں گے جو گوادر اور بلوچستان کے لوگوں کی خواہش کے برعکس ہو وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ میں خود بھی گوادر جائونگا اور گوادر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت جو تجاویز اور مشاورت ہوگی اسے مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات اٹھائیں گے ۔