|

وقتِ اشاعت :   January 16 – 2021

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 45منٹ کی تاخیر سے سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس کے دوران پشتونخوا میپ کے رکن اسمبلی نصراللہ خان زیرئے کے والد اور سینیٹر کلثوم پروین کیایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔اجلاس شروع ہوا توصوبائی وزراء واراکین اسمبلی نواب محمد اسلم رئیسانی ،سردارصالح بھوتانی ،سرداریارمحمدرند،سردارعبدالرحمن کھیتران ،سردارسرفرازچاکر دومکی ۔

میر سکندرعمرانی ،میر عمر جمالی ،حاجی محمدخان طوراتمانخیل ،انجینئر زمرک خان اچکزئی ،میر اسد اللہ بلوچ ،ڈاکٹرربابہ بلیدی ،شکیلہ نوید دہوار،زینت شاہوانی ،مستورہ بی بی اوربانو خلیل کی رخصت کی درخواستیں پیش کی گئی جنہیںمنظور کرلیا گیا۔ اجلاس میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن قادر علی نائل نے سا نحہ مچھ سے اپنی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ2اور3جنوری کی درمیانی شب گیشتری کے مقام پر انسانی تاریخ کا اندوہناک واقعہ پیش آیا جس میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے دس مزدوروں کو بے دردی سے قتل بلکہ ذبح کرکے شہید کیاگیا ۔

واقعہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا دردناک واقعہ ہے جس کی مذمت کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں اس المیے نے نہ صرف ہزارہ قوم بلکہ صوبے میں آبادتمام اقوام کو کرب میں مبتلا کیا یہ واقعہ گزشتہ بائیس سالوں کے ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا تسلسل ہے ۔ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سبزی فروشوں ، طلباء ، حتیٰ کہ خواتین کا بھی خون بہایاگیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ ہمسایہ ممالک میں 1978اور79میںآنے والے انقلابات کے منفی اثرات ہمارے ملک میں پڑے ہیں ایک ملک میں آنے والے انقلاب کے بعد یہاں اسلحہ کلچر فروغ پایا جبکہ دوسرے ملک میں آنے والے انقلاب کے بعد یہاں فرقہ واریت کو فروغ حاصل ہواتاہم اس وقت ہمارے پالیسی سازوں نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی اور نوبت ہزارہ نسل کشی تک پہنچ گئی ۔

دو دہائیوں سے ہزارہ نسل کشی ہورہی ہے ہماری مائوں اور بہنوں کے آنسو خشک ، نوجوانوں کے کندھے جنازے اٹھاتے تھک چکے ہیں ہم مزید ایسے واقعات کے متحمل نہیں ہوسکتے ہماری مائیں سوال کرتی ہیں کہ ایسے واقعات کے ذمہ دار کون ہیں اور انہیں کب کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔ دو دہائیوں سے ہم پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے ہیں ہمارا معاشی قتل عام ، تعلیم کے دروازے بند اور ہمارے سماجی رابطے منقطع کردیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ۔

انہوںنے کہا کہ حکومتوں کی ناکامی کی وجہ بھی امن وامان کی عدم بحالی ہوتی ہے انہوںنے کہا کہ جب امن وامان بحال نہیں ہوں گے تو تعلیمی ادارے اور کھیلوں کے میدان ویران ہوں گے ماضی میں بھی امن وامان نہ ہونے سے صوبائی حکومت ختم کی گئی ہمیں ہمارے لوگوں نے ووٹ دے کر اس ایوان میں بھیجا ہے ہماری ترجیح سڑکیں ، نالیاں اور ترقیاتی کام کرانا نہیں بلکہ امن وامان کی بحالی ہماری ترجیح ہے انہوںنے کہا کہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت اندوہناک واقعے میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے اور دو دہائیوں سے جو مظالم ہورہے ہیں ۔

اس کا تدارک اور شہداء کے قاتلوںکو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے سانحہ مچھ سمیت دیگر بدامنی کے واقعات سے متعلق ٹروتھ کمیشن قائم کیا جائے ۔سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ سانحہ مچھ بلوچستان کی روایات کے برعکس واقعہ ہے صوبے کی روایت ہے کہ یہاں کبھی کسی کمزور پر ہاتھ نہیں اٹھایا جاتا بلکہ مصیبت کے وقت میں یہاں کے لوگ ان کے ساتھ کھڑے رہے ۔

جس طرح مچھ واقعے میں مزدوروں کا قتل کیا گیا یہ صرف ہزارہ کمیونٹی کے لوگ نہیں بلکہ یہ بلوچستان کے لوگ تھے واقعے سے ہمارا سر شرم سے جھک گیا ہے اور یہ واقعہ صوبے کے لئے ایک بدنما داغ ہے ۔ بی این پی کے ثناء بلوچ نے کہا کہ قرار داد کے متن میں جو واقعہ رونما ہوا ہے اس کے برابر الفاظ نہیں قرار داد میں ترمیم کرکے اس میں ٹروتھ کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی شامل کیا جائے۔

جو محرک کا مطالبہ بھی ہے ۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ ، اختر حسین لانگو اور ملک نصیر شاہوانی نے بھی ٹروتھ کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حقائق جاننے کے لئے کمیشن قائم کیا جائے اور حقائق منظر عام پر لائے جائیں ۔صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے کہا کہ اس واقعے کے بعد میری سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیا ہے کمیشن حقائق کا پتہ لگا کر انہیں عوام کے سامنے لائے گی ۔

وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بہت بڑا ظلم ہے جس کی مثال نہیں ملتی پوری دنیا نے واقعے کی مذمت کی ہے انہوںنے کہا کہ واقعے سے متعلق لواحقین کے مطالبے پر وزیر داخلہ کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا گیا ہے اگر اپوزیشن کے پاس کوئی تجویز ہے تو وہ سامنے لائے ۔ پی ٹی آئی کے مبین خلجی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لواحقین کے مطالبے پر کمیشن قائم کردیاگیا ہے جس میں ہزارہ کمیونٹی کے لوگ بھی شامل ہیں ۔ مشیر کھیل عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ مذمتی قرار داد کو اس کی اصل شکل میں منظور کی جائے بعدازاں قرار داد منظور کرلی گئی ۔

خصوصی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل امن وامان کی صورتحال ، اپوزیشن کے خلاف نیب کارروائی ، ہوش ربا مہنگائی ، بے روزگاری اور بجلی و گیس کی گھمبیر صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ تہتر سال سے ہمارے معاشرے میں بے چینی پائی جاتی ہے جس سے ملک دشمن عناصر کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔

اور وہ اپنے ناپاک عزائم کے لئے یہاں افراتفری پھیلاتے ہیں انہوںنے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ہم نے بلوچستان اسمبلی کے اس ایوان میں ہر اجلاس میں امن وامان کی صورتحال پر بحث کی اگلے اجلاس میں پھر سے امن وامان کی صورتحال پر بحث ہوتی ہے جب تک واضح طریق کار نہیں اپنایا جاتا عدل و انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔

انہوںنے کہا کہ ملکی قوانین او ردستور میں عوام کے جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے اگر ریاست عوام کو جان ومال کا تحفط فراہم نہیں کرسکتی تو پھر حکومت کی کیا حیثیت باقی رہے گی ۔ انہوںنے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی سے ہی ظلم کا راستہ روکا جاسکتا ہے انہوںنے کہا کہ اس دور میں جب یہاں ایس ایچ او تھانہ اور نفری نہیں تھی مگر روایات اور اقدار تھے ۔

ایسے واقعات پیش نہیںآ تے تھے ۔انہوںنے کہا کہ بدامنی کے واقعات ہورہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں انہوں نے ہوشربا مہنگائی اور بے روزگاری پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی سے تمام طبقات متاثر ہیں لوگوں کو سوکھی روٹی بھی میسر نہیں ہے لوگ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے تشویش میں مبتلا ہیں بھوک کے ہاتھوں لوگ خود کشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔

مگر ہوشربا مہنگائی پر کنٹرول کی بجائے حکومت نے ایک بار پھر پٹرول کی قیمت میں اضافے کی سمری ارسال کی ہے جس سے عوام کی مشکلات بڑھیں گی عوام کی کفالت حکومت کی ذمہ داری ہے مگر یہاں امیر امیر تر اور غریب مزید غریب ہورہا ہے انہوںنے صوبے میں گیس و بجلی کی گھمبیر صورتحال پر تشویش کااظہا رکرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے پہلے بھی گیس و بجلی کے فکس ریٹ سے متعلق قرار دادیں منظور ہوتی رہی ہیں۔

ان قرار اددوں پر عملدرآمد کیا جائے ۔دریں اثناء بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے سے قاصر ہے امن و امان، مہنگائی، لوڈشیڈنگ سمیت دیگر اہم مسائل پر بحث کے دوران کورم کی نشاندہی کرنا غیر سنجیدہ عمل ہے اپوزیشن ایک بار پھر اجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن جمع کروائے گی، چیئر مین نیب اپوزیشن کو ہراساں کرنے والے چیئرمین نیب اب 540کروڑ روپے کا حساب دیں ۔

ایچ ڈی پی نے ہزارہ برداری کو دھوکہ دیا ہے انہیں چاہیے کہ وہ حکومتی سے مستعفیٰ ہوجائیں ، یہ بات بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی، جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی زابد علی ریکی نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی،اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپوزیشن نے صوبے کے اہم ترین مسائل پر اجلاس کے لئے۔

ریکوزیشن جمع کروائی امن و امان کی صورتحال گمبھیر ہے کوئی بھی ذی الشعور پاکستانی اور بلوچستانی آج یہ نہیں سمجھتا کہ انکی عزت او ر آبرو محفوظ ہے جب گھر میں آگ لگتی ہے تو اسکا فائدہ بیرونی دشمن اور عناصراٹھاتے ہوئے بدامنی پھیلاتے ہیں آج اسمبلی کا اجلاس اس لئے بھی ریکوزیشن کیا تھاکہ اسمبلی میں بحث کے بعد حکومت امن و امان کی بہتری کے لئے اپنی حکمت عملی بنائے اور ایوان کو بھی اعتماد میں لے لیکن بدقسمتی سے 10لوگوں کے مرنے کے بعد عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔

حکومت یہ واضح ہی نہیں کر سکتی کہ وہ عوام کے تحفظ کو کیسے یقینی بنا ئے گی اور نہ ہی وہ ان معاملات پر عوام کے نمائندہ ایوان کا سامنا کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ نیب کے چیئرمین اپوزیشن کو ہراساں کر رہے تھے انہیں آج اسمبلی نے بلایا اور 540کروڑ روپے کی ادائیگی کے حوالے سے جواب طلبی کی ہے اب وہ خود پریشان ہوگئے ہیں انکا قصہ ختم ہونے کو ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان مغرب کی نماز کے لئے گئے اور کچھ ارکان آج رخصت پر بھی تھے جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے کورم کی نشاندہی کی اور اجلاس ملتوی کردیا گیا انہوں نے کہا کہ ہم ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی قرار داد کی حمایت بھی اور انسانیت کا تقاضہ جانتے ہوئے بھر پور انداز میں قرار داد کا ساتھ دیا ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان بھی اجلاس ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔

اپوزیشن ایک بار پھر اجلاس ریکوزیشن کریگی اور اسمبلی میں انہی مسائل کو دوبارہ اٹھائے گی، بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی نے کہا کہ حکومت پہلے دن سے ہی عوامی مسائل سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے گوادرمیں باڑ کے معاملے پر اپوزیشن نے وزیراعلیٰ کی ایک گھنٹے کی تقریر سنی توقع تھی کہ وہ پالیسی بیان کریں گے لیکن وہ تقریر کر کے بھاگ نکلے جسکی ویڈیو آج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آج امن وامان جیسے اہم مسئلے پر بحث تھی جس پر پور ی کابینہ ایوان سے فرار ہوگئی انہوں نے کہا کہ ہزارہ برداری کے دیکھ لیا کہ کس طرح ایچ ڈی پی ایوان سے فرار ہوئی ہم نے قادر نائل کے کہنے پر حقائق کمیشن بنانے کے مطالبے کی حمایت کی اور بعد میں عبدالخالق ہزارہ نے اپنے ہی رکن کی بات سے رو گردانی کردی ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے صرف فرضی قرار داد منظور کروائی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مہنگائی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

عوام اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے آئے روز سڑکوں اور اسمبلی کے باہر احتجاج ہور ہے ہیں جن سے حکومت کو کوئی سروکار نہیں ہے وہ دن دور نہیں جب عوام کا ہاتھ حکومت کے گریبان پر ہوگا ہم ایک بار پھر ریکوزیشن اجلاس بلائیں گے، جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی حاجی زابد علی ریکی نے حکومتی جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مچھ واقعہ کے بعد 7روز تک لاشیں سڑک پر رکھ کر لواحقین نے احتجاج کیا۔

لیکن ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے کچھ نہیں کیا ایچ ڈی پی کے دو ارکان صرف قرار داد منظور کروانے اور سیاست چمکانے آئے تھے وہ اپنے ہی حلقے کی عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے آج واضح کردیا کہ وہ ہر صورت میں حکومت کا حصہ رہیں گے ہزارہ قوم سے زیادہ انہیں وزارتیں عزیز ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتنے بڑھ واقعہ کے بعد ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی حکومت چھوڑ کر اپوزیشن کاحصہ بنتی لیکن وہ عوام اور مینڈیٹ سے دھوکہ دہی کر رہے ہیں جو قابل افسوس ہے اب بھی وقت ہے ایچ ڈی پی اپوزیشن میں آئے ہم اسے ویلکم کہیں گے ۔