|

وقتِ اشاعت :   April 24 – 2021

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) نے ملک بھر میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے سبب لاک ڈاؤن کا عندیہ دیتا ہوئے کہا ہے کہ کیسز میں اضافے اور ہسپتالوں پر دباؤ بڑھنے کی صورت میں لاک ڈاؤن لگایا جا سکتا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک بھر میں کورونا کی موجودہ وبا سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان ایئر فورس کے خصوصی طیارے کے ذریعے آج چین سے 5لاکھ سینوفارم ویکسین پاکستان پہنچ رہی ہیں۔

وائرس کے پھیلاؤ کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر این سی او سی اجلاس میں ایسے شہروں اور علاقوں میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کی تجویز پر مشاورت بھی کی گئی جہاں وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور نظام صحت کو مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کیسز بڑھنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور ہسپتالوں پر دباؤ بڑھا تو مخصوص شہروں اور علاقوں میں لاک ڈاؤن لگایا جا سکتا ہے۔

تاہم لاک ڈاؤن کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا کیونکہ اس لاک ڈاؤن کا مقصد ایس او پیز پر عملدرآمد کے ذریعے وبا کا پھیلاؤ روکنا ہے۔

دوران اجلاس مارکیٹوں، بازاروں شاپنگ، غیراہم اشیا کے ساتھ ساتھ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں کی مکمل بندش کی تجویز پیش کی گئی۔

اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کی درخواست پر ان کی مدد کے لیے فوج، رینجرز، پولیس، ایف سی سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معاونت کے لیے بھیجا جائے گا۔

این سی او سی نے ہفتہ اور اتوار بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی میں 17 مئی تک توسیع کردی ہے۔

ملک کے تمام ہسپتالوں کو آکسیجن کی سپلائی کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے 6 ہزار901 بستروں کا اضافہ کیا گیا ہے اور آکسیجن سپلائی کا بھی بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے اب تک 2811 آکسیجن بیڈز، 431 وینٹیلٹرز، 1196 آکسیجن سیلنڈرز ، 1504 فنگر پلس آکسی میٹرز بھی فراہم کیے جاچکے ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران ملک میں تیزی کے ساتھ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور اموات کی شرح بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہوتی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم نے کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے شہروں میں فوج طلب کر لی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ بھارت میں کورونا وائرس کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے میری اپیل ہے کہ اگر ہم نے احتیاط نہیں کی تو زیادہ سے زیادہ ہفتے، 2 ہفتوں میں ہمارے ہاں بھی بھارت جیسے حالات ہوجائیں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال ایک ہفتے میں بہتر نہ ہوئی تو مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے، مکمل لاک ڈاؤن کی وزیر اعظم نے مخالفت کی ہے لیکن ایک ہفتے میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جانا ہوگا’۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر انتہائی تشویشناک ہے اور یہ لہر ان علاقوں میں بھی پہنچ گئی ہے جو پہلی دو لہروں کے دوران محفوظ رہے تھے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام نے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد نہ کیا تو ملک کو وائرس کی بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،

پاکستان میں اب تک 7 لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور 16 ہزار 999 موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔