|

وقتِ اشاعت :   May 2 – 2021

کوئٹہ: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میجر (ر) اورنگزیب بادینی کی سربراہی میں پولیس، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ شب کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کروناوباء کی تیسری لہر کے دوران ایس او پیز پر عملدرآمد کو ممکن بنانے کے لئے تقریباً 2 ہزار سے زائد مختلف ہوٹلوں ، دکانوں کا دورہ کیا 1500 دکانوں کو بند کرواکر 100 افراد کو گرفتار جبکہ 1 ایف آئی آر درج کرنے کے علاوہ 1000 دکانوں کو وارننگ جاری کی اور 200 لوگوں سے شناختی کارڈ تحویل میں لئے۔ گزشتہ شب ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میجر (ر) اورنگزیب بادینی تمام اسسٹنٹ کمشنرز، مجسٹریٹس، پولیس ، لیویز، فرنٹیئر کور کی جانب سے اپنے اپنے علاقوں میں کرونا وباء کی تیسری لہر کے دوران این سی او سی کی جانب سے جاری کئے جانے والے ایس او پیز اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے اوقات کار کے بعد کھولی جانے والی دکانوں، ہوٹلوں، مارکیٹوں، شاپنگ پلازہ کا دورہ کیا گیا ۔

پولیس ، لیویز اور ایف سی کی مشترکہ پیٹرولنگ اور فلیگ مارچ بھی کیا گیا انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ شب ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میجر (ر) اورنگزیب بادینی، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے فیصل نسیم پانیزئی، فرنٹیئر کور اور پولیس کے ایس ایس پی ، علاقہ مجسٹریٹ ، اسسٹنٹ کمشنر سمنگلی روڈ ، جناح ٹا?ن اور ایئر پورٹ روڈ سمیت بائی پاس سمیت دیگر علاقوں میں روزہ افطاری اور تراویح کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ہوٹلوں اور دکانوں کو سیل کرنے کے علاوہ دکان مالکان کو وارننگ دینے کے علاوہ متعدد افراد کو حراست میں لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اورنگزیب بادینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے ۔

کہ وہ کرونا کی تیسری لہر کے دوران ایس او پیز پرعملدرآمدکو یقینی بناتے ہوئے افطاری اور تراویح کے بعد اپنے گھروں میں رہے اور نہ کہ ہوٹلوں ، دکانوں اور مختلف کھلے مقامات پر ٹولیوں کی شکل میں بیٹھنے سے گریز کریں۔ کیونکہ کرونا کی تیسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد اور اوقات کار کے بعد دکانیں اور مارکیٹیں نہ کھولنے کے لئے سختی سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کی سربراہی میں لیاقت بازار، پرنس روڈ، میکانگی روڈ، گوالمنڈی چوک، کواری روڈ، کاسی روڈ، منان چوک، آرٹ سکول روڈ سمیت دیگر علاقوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر 4 دکانوں کو سیل اور 28 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اور ان کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔