|

وقتِ اشاعت :   January 31 – 2022

اندرون بلوچستان: نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ریکوڈک کے خفیہ معاہدے کیخلاف صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے وریلیاں منعقد کی گئیں ، مستونگ ، دالبندین، نوشکی ، بھاگ، ڈیرہ مراد جمالی ودیگر علاقوں میں مظاہروں وریلیوں میں ریکوڈک معاہدے کی شدید مذمت کی گئی ، تفصیلات کے مطابق نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار تحصیل دالبندین ضلع چاغی کی جانب سے ریکوڈک بچاؤ تحریک کے حوالے سے ایک ریلی نکالی گئی۔

جس نے مختلف شاہراوں پر گشت کرتے ہوئے حمید شہید چوک پر جلسہ عام کی شکل اختیار کی جلسہ عام سے نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی لیبر سیکریٹری سردار رفیق شیر بلوچ ضلعی صدر میر عاطف بلوچ سابق ضلعی صدر طارق بلوچ تحصیل دالبندین کے صدر ظفر بلوچ بی ایس او پجار کے زونل جنرل سیکریٹری ساجد ایاز بلوچ پریس سیکریٹری حسام الدین شیر بلوچ یونٹ سیکریٹری قدرت اللہ بلوچ اور راشد ہمراز بلو چ نے خطاب کیا مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک کے اربوں ڈالر کے وسائل کی سودے بازی اور خفیہ معاہدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب معاہدے اور بریفنگ ان کیمرہ ہوتے ہیں تو یہ شکوک وشبہات کو جنم دیتے ہیں۔ ان وسائل کا اصل مالک بلوچ قوم ہے جو سوچ رہا ہے کہ معاہدے میں وہ کون سے فیصلے ہیں جو ہم سے مخفی رکھا جارہا ہے۔ا نھوں نے کہا کہ ریاستی مافیاز اور بین الاقوامی استحصالی قوتوں کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ریکوڈک لاوارث کا مال نہیں ہے۔ ہم ہر قسم کی لوٹ مار کی مزاحمت کرینگے۔موجودہ سلیکٹڈ حکومت کے پاس ایسا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کو نظر انداز کرتے ہوئے سودا بازی کرے۔

ہم واضح کر دیتے ہیں کہ اس سے پہلے سیندک، سوئی گیس اور دیگر وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے بعد مزید ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ہم ترقی کے عمل کی حمایت کرتے ہیں، اگر وہ ترقی بلوچستان کے عوام کے لیے ہو اور ہم ریکوڈک کے حوالے سے صرف اس معاہدے کی حمایت کرتے ہیں جو صاف شفاف ہو۔اس کے ہر آرٹیکل سے عوام باخبر ہو۔ کوئی چیز خفیہ نہ ہو اور یہاں کے عوام کے مفاد میں ہو۔انھوں نے بلوچستان کے تمام قوم دوست وطن پرست قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ریکودک کو بچانے کی تحریک میں نیشنل پارٹی کا ساتھ دیں،نیشنل پارٹی تحصیل بھاگ کے زیر اہتمام ریکوڈک معاہدے کے خلاف احتجاجی ریلی و مظاہرہ ریلی کے شرکاء نے بینرز و پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں ریکوڈک کا خفیہ معاہدہ نا منظور نا منظور کے نعرے درج تھے مظاہرین نے وفاقی و صوبائی حکومت کی نا اہلی کے خلاف شدید نعرے بازی کی مظاہرین سے نیشنل پارٹی کے سینٹرل کمیٹی ممبر و نصیر آباد ریجن کے ریجنل سیکریٹری ٹکری میران بلوچ صوبائی رہنما ماما عبدالستار بنگلزئی اکبر بلوچ میر اعجاز مغیری نعیم بلوچ قادر بلوچ گیلا رام سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ نا اہل حکمرانوں کا ریکوڈک کا خفیہ معاہدہ نا قابل قبول ہے نیشنل پارٹی بلوچستان کے ساحل وسائل کو کسی صورت اونے پونے بیچنے نہیں دے گی

نیشنل پارٹی ریکوڈک خفیہ معاہدے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ریکوڈک معاہدے کے تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام لاوارث نہیں نیشنل پارٹی نے اقتدار میں بھی بلوچستان کے وسائل کا تحفظ کیا تھا اب اپوزیشن میں بھی ریکوڈک سی پیک سیندک کے ساتھ بلوچستان کے ساحل وسائل کسی کو لوٹنے کی اجازت نہیں دے گی انہوں نے کہا نیشنل پارٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ بلوچستان کے ساحل و وسائل اتنے سستے اور لاوارث نہیں کہ انہیں بیچ کر بلوچستان کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیلا جائے مقررین نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کہتے ہیں کہ ریکوڈک کے ذریعے ملک کے قرضے اتارے جائیں ستم ظریفی ہے کہ عیاشیاں حکمراں کریں اور قرضے پسماندہ مظلوم عوام کے ساحل وسائل کو بیچ کر پورا کیا جائے

جو عوام کے حقوق پر واضح ڈاکہ ہے نیشنل پارٹی ہر صورت عوام کے حقوق پر ڈاکے کو ناکام بنائے گی انہوں نے کہا کہ نا اہل حکمراں ترقی ایک لاکھ نوکریاں اور گھر دینے کے بجائے عوام کے ساحل وسائل پر ہاتھ صاف کرنا چاہ رہے ہیں نا اہل حکمرانوں نے بلوچستان کی عوام کو مزید مسائل کے دلدل میں دھکیل دیا ہے مقررین نے کہا کہ بلوچ قوم کی مرضی کے خلاف اگر معاہدہ کیا گیا تو نیشنل پارٹی بھر پور احتجاجی تحریک چلائے گی،نیشنل پارٹی کی مرکزی کال کے مطابق ریکوڈک بچاؤ تحریک کے سلسلے میں نیشنل پارٹی مستونگ اور بی ایس او پجار کے زیر اہتمام ضلعی جنرل سیکرٹری سجاد دہوار، نیشنل ورکنگ کمیٹی کے ممبر نثار مشوانی، سابق سیکرٹری تعلیم ظفر بلوچ، بی ایس او پجار کے صوبائی صدر بابل ملک بلوچ، مرکزی رہنماء ظفر بلوچ، زونل صدر رئیس ناصر سارنگزئی، تحصیل مستونگ کے نائب صدر عارف باروزئی، دشت کے جنرل سیکرٹری فدا بنگلزئی، کھڈکوچہ کے صدر جان بیگ بلوچ، ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری گل شاہوانی، لیبر سیکرٹری حاجی نذیربگٹی کی قیادت میں سراوان پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے میں نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے سینئر رہنماؤں رئیس غلام صدیق ابیزئی، اسحاق علیزئی ایڈوکیٹ، صالح باروزئی، ڈاکٹر قدیر ترین،فاروق شاہوانی، چاکر بلوچ، امان اللہ محمدحسنی، ظفر بلوچ، نثار بلوچ، مقصود شاہوانی، ملک عباس نیچاری سمیت کارکنوں کی کثیر تعداد شریک ہوئے۔ مظاہرین نے نااہل صوبائی حکومت اور اپوزیشن کی ملی بھگت سے ریکوڈک منصوبے کی خفیہ سودہ بازی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔

مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں ریکوڈک کی خفیہ سودے بازی اور حکومتی نااہلی کے خلاف نعرے درج تھے۔مظاہرین سے ضلعی جنرل سیکرٹری سجاد دہوار، نیشنل ورکنگ کمیٹی کے رکن نثار مشوانی، بی ایس او پجار کے صوبائی صدر بابل ملک بلوچ، زونل صدر رئیس ناصر سارنگزئی، ظفر اقبال بلوچ، اسحاق علیزئی ایڈوکیٹ، رئیس صدیق آبیزئی ، بی ایس او پجار کے مرکزی رہنماء ظفر بلوچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ صوبائی حکومت کی جانب سے ریکوڈک کی خفیہ سودا بازی کسی صورت قبول نہیں خفیہ سودے بازی کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں نااہل اور سلیکٹڈ صوبائی حکومت اپنے وفاقی اقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے بلوچستان کے وسائل کو کوڑیوں کے دام خفیہ طور پر سودا کرنے کی سازشیں کررہی ہیںلیکن نیشنل پارٹی ایسے کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا بلوچستان کے وسائل اور ساحل کے مالک بلوچستان کے عوام ہیں وسائل کے حوالے سے جوبھی معاہدہ ہو وہ صوبے کے عوام کے سامنے ہوں نیشنل پارٹی بلوچستان کے وسائل اور ساحل کے دفاع اور قومی حقوق کیلئے ہرفورم پر اور گلی گلی احتجاج کریگی اور قومی حقوق کا سودا کسی صورت نہیں کرنے دیگی، نیشنل پارٹی کے مرکزی اعلامیہ کے مطابق نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر جاگن خان مغیری کی جانب سے ریکوڈک کے خفیہ معاہدوں کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی احتجاجی ریلی بلوچ شوروم نکالی گئی جو کہ مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا احتجاجی مظاہرہ سے نیشنل پارٹی نصیر آباد کے صدر جاگن مغیری سینئر رہنما کامریڈ تاج بلوچ۔

بی ایس او پجار کے مرکزی کمیٹی کے رکن گہنور بلوچ۔ ضلعی جنرل سیکرٹری محمد شریف ابڑو۔ کامریڈ عبدالرزاق پندرانی۔ اور نیشنل پارٹی کے ضلعی رہنما نذیر مینگل نے و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے ساحل و سائل کی محافظ اور عوام کی نمائندہ جماعت ہے ہم کسی صورت میں ریکوڈک کے ان بریفنگ معاہدوں کے تسلیم نہیں کریں گے جبکہ اس خلاف مزید موثر آواز بلند کریں گے انہوںنے کہا کہ اس وقت بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک پیج پر اور اپوزیشن اس وقت بلوچستان کے سائل و سائل دفاع کرنے کے بجائے حکومت کے ساتھ نبھا رہے ہیں جو کہ ان کے لیے باعث افسوس کا مقام ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہم ریکوڈک کو اونے پونے داموں کبھی فروخت نہیں ہونے دینگے جبکہ اس کے خلاف مزید موثر توانا سیاسی جدوجہد کریں گے،نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام مرکزی کال کے مطابق ریکوڈک بچا تحریک کے حوالے سے ایک احتجاجی ریلی جوکہ پارٹی آفس سے نکل کر مختلف شاہراں سے ہوتے ہوئے گل خان نصیر چوک پر احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرگئی جس میں نیشنل پارٹی بی ایس او پجار کے ورکرز اور عوام کی بڑی تعداد میں شریک تھی احتجاجی مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ رخشان ریجنل فاروق بلوچ ڈسٹرکٹ صدر رب نواز شاہ جنرل سیکرٹری بیبرگ بلوچ نائب صدر رمضان حسنی یوتھ اینڈ سپورٹس سیکرٹری داود شاہ بی ایس او پجار کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری وکرم بلوچ سی سی ممبر حقنوازشاہ زونل صدر مشتاق بلوچ نثار بلوچ نے خطاب کیا مقررین نے کہا کہ بلوچستان کی ساحل وسائل کو گزشتہ 74 سالوں سے بے دریغ لوٹا جارہا ہے جوکہ وفاق کی بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں کی سلوک ہے آج بلوچستان کی ساحل وسائل کو بیج کر وفاق اور دوسرے صوبے جنت بن گئے ہے

لیکن بلوچستان کی باسی آج بھی بجلی پانی صحت جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہے سوئی جوکہ پورے ملک کو گیس فراہم کرتی ہیں لیکن بلوچستان اپنی جگہ سوئی کو بھی گیس میسر نہیں آج ریکوڈک کو جوکہ بلوچستان کی قومی میراث ہے ریکوڈک کو خفیہ زریعے سے نیلام کیا جارہا ہیں جو اس سلیکٹڈ حکومت کی نااہلی ہے کیونکہ بلوچستان کو لیبارٹری بنا کر مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہے جس کی مثال موجودہ صوبائی حکومت اور ان کی ڈمی پارٹی ہے موجودہ صوبائی حکومت کی وزیراعلی کی تبدیلی کا مقصد دراصل ریکوڈک کی سودے بازی کیلئے راہ ہموار کرنا ہے لیکن وہ لوگ جو قوم پرستی اور مذہبی پرستی کے دعوے دار ہے وہ لوگ بھی اس گناہ کبیرہ میں شامل ہے آج یہی لوگ اپنے اکابرین کی سوچ فکر سے ہٹ چکے ہیں کیونکہ اب انہیں صرف مراعات اور بینک بیلنس کی پڑی ہے لیکن نیشنل پارٹی ریکوڈک سمیت بلوچستان کی کوئی بھی قومی میراث ہو نیشنل پارٹی خاموش نہیں رہے گی اور ان سوداگروں کی اصل چہرے عوام میں لاکر انکے بدنما کرتوتوں کو عیاں کریگی۔