|

وقتِ اشاعت :   April 24 – 2022

صحافت کا شعبہ بطور پیشہ اپنانے والے سبھی صحافی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کس قدر مشکل اوردقت طلب ہے بالخصوص وہ علاقے اور خطے جو مختلف وجوہات کی بناء پر تنازعات میں گھرے رہتے ہیں یا جنہیں حرف عام میں’’ کنفلکٹ زون ‘‘ کہاجاتا ہے ان علاقوں میں صحافت جان ہتھیلی پر رکھ کر کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود نہ تو اس شعبے کاکام رکا نہ اس شعبے میںآنے والوں کی راہ روکی جاسکی۔

یہاںہمارے صوبے ( بلوچستان) میں صحافت کی اولین بنیادیں رکھنے والے خان شہید عبدالصمدخان اچکزئی اور یوسف عزیز مگسی سے لے کر آج تک صحافی گونا گوں مشکلات اور پریشانیوں میں گھرے رہتے ہیں حتیٰ کہ پچاس کے قریب صحافی ہمارے صوبے میں فرائض کی انجام دہی کے دوران جام شہادت نوش کرچکے ہیںآج تک کسی صحافی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جاسکا اور نہ ہی ان کے اہلخانہ کو انصاف مل سکا آج ہم ایک ایسے ہی صحافی کا یوم شہادت منارہے ہیں جنہیں ہم سے پچھڑے ایک سال پورا ہوچکا ہے۔ شہید عبدالواحد رئیسانی۔ جنہیں ایک سال قبل رمضان المبارک کی انہی مبارک ساعتوں میں گھر سے دفترجاتے ہوئے فائرنگ کرکے قتل کردیاگیا ایک سال گزر گیا اس ایک سال کے دوران اس کے اہلخانہ نے دوسری بہت سی اذیتوں اور کرب کے ساتھ ساتھ اس تکلیف کو بھی برداشت کیا ہے کہ ان کے پیارے کے قاتل آج بھی نظام انصاف کا منہ چڑا رہے ہیں۔
شہید عبدالواحد رئیسانی اگرچہ نوجوان تھے اور ابھی ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی مکمل نہیں ہوئی تھیں لیکن وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے اخباری صنعت میں آگئے تھے انہیں کیا خبر تھی کہ ایک دن دفتر سے وہ نہیں بلکہ ان کی نعش آئے گی اور ان کے دوست رشتہ دار اور ہم پیشہ ساتھی ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبے کرکے تھک جائیں گے لیکن اس کے اہلخانہ انصاف سے محروم رہیں گے۔
شہید عبدالواحد رئیسانی کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا۔ ایک ایسا خاندان جس کے سربراہ نے سوکھی روٹی کھاکر اپنے بیٹوں کو تعلیم دلائی۔ عبدالواحد رئیسانی نے گھر کے قریب قائم احمد خانزئی سکول سے مڈل اور سینٹرل ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا نہ ہوا تو بھائیوں کی مشاورت سے جامعہ بلوچستان کے شعبہ ہوم اکنامکس میں داخلہ لیا۔ بی کام کاامتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا جن دنوںانہیں شہید کیا گیا تب بھی وہ مزید تعلیم اور داخلے کے حصول کے لئے جامعات کی ویب سائٹس کھنگھالتے رہے اسی دوران صحافت کی دنیا میں بھی قدم رکھ چکے تھے اور قلیل عرصے میں اپنی لیاقت و قابلیت کا لوہا منوا چکے تھے۔ عبدالواحد کے بڑے بھائی شعیب رئیسانی پہلے سے اخباری فیلڈ سے وابستہ اور جانے مانے صحافی ہیں بھائی کی دیکھا دیکھی انہیں بھی صحافت میںآ نے کا شوق چرایا۔ لکھنے لکھانے لگے اور جب انہیں محسوس ہوا کہ ان کی اعلیٰ تعلیم ان کے خاندان پر مالی بوجھ کا باعث بن سکتی ہے تو انہوںنے اپنے تعلیمی اخراجات خود پورے کرنے کی ٹھانی۔ انہوںنے روزنامہ آزادی سے بطور کمپیوٹر آپریٹر شروعات کیں۔ ملنے والے معاوضے سے اپنے اخراجات پورے کرتے رہے ایک طرف تعلیمی سلسلہ آگے بڑھتا رہا تو دوسری جانب وہ صحافت کی دنیا میں تیزی سے ترقی کے مدارج طے کرنے لگے کمپیوٹر آپریٹر سے ڈیسک پر آئے اور بلوچستان کا کم عمر نیوز ایڈیٹر بننے کا حاصل کیا۔ عبدالواحد رئیسانی کو اللہ تعالیٰ نے صلاحیتوں اور قابلیت سے نوازا تھا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب نے پوری دنیا میں ہر شعبے میں جدت پیدا کی ہے بلوچستان میں صحافت ہر چند کہ ابھی بھی مکمل ڈیجیٹل نہیںہوا تاہم جن اولین اخبارات کو ڈیجیٹل دنیا میں آنے اور آن لائن قارئین بنانے کا اعزاز حاصل ہے ان میں آزادی سرفہرست نہ سہی لیکن نمایاں ضرور ہے۔ آزادی اخبار پچھلے کئی برسوں سے ویب سائٹ پر موجود تھا عبدالواحد رئیسانی نے آزادی ڈیجیٹل ٹی وی اور ویب پیج کی نئے انداز میںشروعات کیں۔ بلوچستان میں عام طو رپر صحافت ’’انہوں نے کہا ‘‘ کی گرد میں لپٹی ہوتی ہے۔ ما ر کٹائی اور تشدد کی خبروں کے علاوہ یہاں کی صحافت پچھلے ایک عشرے سے صرف ’’ انہوںنے کہا ‘‘ تک محدود رہی ہے یعنی سیاسی جماعتوں کے بیانات ، تاجروں او رصنعتکاروں کے مطالبات پر مبنی بیانات سے آگے بلوچستان کی صحافت میں کچھ نیا تھا ہی نہیں ( اب تک یہی حالت ہے ) لیکن عبدالواحد رئیسانی چونکہ دور جدید کے ایڈیٹر اور بلوچستان کے اصل مسائل سے آگاہ صحافی تھے اس لئے وہ ’’ انہوںنے کہا ‘‘ کے جمود سے نکل آئے ان کے پاس جو خبر آتی وہ اس میں خبریت ڈھونڈتے اورخبریت ہوتی تو پل بھر میں اس کی سرخیاں نکال کر اپ لوڈ کرتے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ خبر دنیا بھر میں پہنچ جاتی۔ اب عبدالواحد رئیسانی عملی صحافت میںآ گئے تھے۔ کوئی بھی سخت جان اور محنتی صحافی جو اچھا مقرر بھی ہو اچھا لکھاری بھی ہو اور خبر کی خبریت چھانٹ کر رپورٹ کرنے کی اہلیت رکھتے ہوئے اگر فیلڈ رپورٹنگ میںآ ئے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی کامیابی نہیں روک سکتی عبدلواحد رئیسانی بھی کامیابی کے مدارج طے کرتے لیکن افسوس کہ موت نے مہلت نہیں دی اور انہیں بھری جوانی میںہم سے انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کرکے چھین لیا۔یہ پچھلے سال گیارہویں رمضان کی بات ہے۔ افطاری کے بعد عبدالواحد گھر سے دفتر کے لئے نکلے اور قمبرانی روڈ پر انہیں فائرنگ کرکے شہید کردیاگیا۔بلوچستان میں اب تک پچاس کے قریب صحافی پرتشدد واقعات ، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں شہید ہوئے ہیںعبدالواحد رئیسانی بھی انہی شہداء کی فہرست میں شامل ہیںاس فہرست میں ڈاکٹر چشتی مجاہد سے لے کر ارشاد مستوئی تک انتہائی قابل صحافی شامل ہیں جو اپنے قارئین او رناظرین کو خبریں دیتے دیتے خود ’’ خبر ‘‘ بن گئے اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کے قاتل اب بھی انصاف کے کٹہرے میں لا کر کھڑے نہیں کئے جاسکے۔
جس طرح فراز نے کہا تھا رات جب کسی خورشید کو شہید کرے تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے بعینہ ہمیں یقین ہے کہ روشنی کا سفر بھی جاری رہے گاآگہی کا سفر بھی کبھی تھمے گا نہیں لیکن سوالات بہرحال موجود رہیں گے اور سب سے بڑا سوال یہ کہ عبدالواحد رئیسانی کا قصور کیا تھا اور اسے مارنے والوں کا مقصود کیا ؟بقول فیض
مرا درد نغمہ بے صدا
مری ذات ذرہ بے نشاں
میرے درد کو جو زباں ملے
مجھے اپنا نام و نشاں ملے