|

وقتِ اشاعت :   August 1 – 2022

کوئٹہ;  پاکستان پیپلز پرٹی ویمن ونگ بلوچستان کی سیکرٹری اطلاعات کرن بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر لسبیلہ، نوشکی، جھل مگسی میں ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

ان کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا ہے، بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں،بلوچستان کے وسیع علاقے میں صورتحال بہت تشویشناک ہے، لوگوں کو شیلٹر،خوراک اور ادویات کی شدید ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان پیپلز پارٹی متاثرہ خاندانوں کیساتھ ہے اور انکی مدد کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زداری نے تما م عہدیداروں اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور پریشان حال خاندانوں کا سہارا بنیں،

انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات ناکافی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ریسکیو اور ریلیف کے کاموں کو تیز کیا جائے، انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ بلوچستان اورہر ممکن امداد و تعاون کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی سطح پر اس قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بارش اور سیلاب سے بلوچستان کے تما م علاقے متاثر ہوئے ہیں، بڑی تعداد میں لوگ سیلاب کی وجہ سے شہید اورہزاروں خاندان بے گھر ہوچکے ہیں لوگوں کی املاک تباہ ہو چکی ہیں باغات اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے لوگوں کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں بچا سڑکیں سیلاب میں بہہ گئی ہیں عوام کی بحالی کے لئے جنگی بنیاد پر اقدامات کرنے ہونگے،پورے بلوچستان میں بلا تفریق امدادی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔