|

وقتِ اشاعت :   August 7 – 2022

تربت:  بلوچستان نیشنل پارٹی کیچ کے ضلعی ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پورا بلوچستان شدید مالی وجانی نقصانات میں دوچار ہوچکاہے ان نقصانات اور سرکار کی عدم توجہی کے سب متاثرین بے یارومددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،ضلع کیچ کل پانچ تحصیلوں پر مشتمل ہے ان پانچ تحصیلوں کو حالیہ بارشوں نے شدید نقصانات سے دوچار کیا ہے مکران کھجور کی پیدوار کے حساب سے پورے پاکستان میں دوسرے نمبر پرہے مکران کی کھجور کی 90فیصد حصہ متاثر ہوکرناکارہ ہوچکے ہیں جس سے زمینداروں اورکاشتکاروں کو اربو ں روپے کا نقصان ہوچکاہے جبکہ حکومت اور دیگر اداروں کی طرف سے جورپورٹ جاری ہوئے ہیں ان کے مطابق ان دو اضلاع (تربت / پنجگور) میں کھجور کی مجموعی پیدوارمیں 90فیصد کمی کا خدشہ ہے کیچ اور پنجگور میں سالانہ 246103 ٹن(دو لاکھ چیالیس ہزار ایک سوتین ٹن) کھجور پیداہوتی ہے جبکہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کل مبلغ 250000000/ کلو(پچیس کروڑ کلو)کھجور پیداہوتی ہے

جس کا ازالہ حکومتی امداد کے بغیر ناممکن ہے لہٰذا اس کا جامع اور غیر جانبدارسروے کرکے نقصانات کا ازالہ کیا جائے،کیچ کور پل سے لیکر پھٹان کہور تک کا حفاظتی بند ٹھیکیدار کی ناقص مٹیریل اور محکمہ ایری گیشن کی ناقص کارکردگی کا شکار رہا ہے اورخطرناک حد تک گنجان آبادی کیلئے بڑا خطرناک ہے اس کی فوری مرمت کی جائے تاکہ علاقہ مکین کسی بھی ناخوشگورحالات سے بچ سکیں،اسی طرح میرانی ڈیم ٹوبل نگور روڈ ڈیڑھ سال سے تاخیر کاشکارہے خستہ حال ہونے کی وجہ سے مکمل ناقابل استعمال ہے سرکار اس سلسلے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کرے تاکہ تکلیف اور مصیبت سے محفوظ رہیں اسی طرح بل نگور ٹو مندروڈ کترینزجوکہ بل نگور کومند سے ملاتی ہے جو صرف آدھے گھنٹے کا راستہ ہے لیکن سرکار نے سیکورٹی کے پیش نظرمذکورہ راستہ کو مکمل طورپر بندکیا ہے جس سے لوگ مجبورہوکر آدھا گھنٹہ سفر کے بجائے سات گھنٹہ سفر کرتے ہیں ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ علاقے کے لوگوں کی مجبوریوں کو مدنظررکھ کرمذکورہ راستہ کو عوام کے استعمال میں لایا جائے،حالیہ بارشوں سے ضلع کیچ کے مختلف علاقوں بلیدہ زعمران دشت بل نگور مند تمپ ہوشاپ ناصرآباد تربت وغیرہ میں زرعی بندات حفاظتی بندات اور روڈ ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہیں۔

ان کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کیلئے ٹریکٹرز کی اشد ضرورت ہے تاکہ علاقے کے لوگ اپنی زندگی کو دوبارہ معمول پر لاسکیں،اس کے علاوہ 2 جولائی 2022ء سے لیکر آج تک دریائے دشت آمدورفت کیلئے بند ہے جس کی وجہ سے فصلات کو مارکیٹ تک پہنچانے کیلئے دشواری کا سامنا ہے فصلات مارکیٹ میں نہ آنے کی وجہ سے بھاری نقصانات کا سامنا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دریائے دشت پر ایک پل ہنگامی بنیادوں پر بنائی جائے،حالیہ بارشوں کی طویل سلسلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کئی کچے مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں غربت اور افلاس کی وجہ سے لوگ اپنے بوسیدہ چھت کو دوبارہ تعمیر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس سلسلے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی مدد کرے اور ریلیف فراہم کرے تاکہ کھلے آسمان تلے لوگوں کیلئے سائے کا بندوبست ہوسکے، چونکہ آپ کے علم ہے کہ بلوچستان بالخصوص مکران کا ذریعہ معاش بارڈر پر انحصار ہے اور بارڈر کا روبار محدود اور تشویشناک ہے اس وقت کراسنگ پوائنٹ ایک ہونے کی وجہ سے تیل بردار گاڑی مالکان اور محنت کش مزدور طبقہ تکلیف اور مصیبت کا سامنا کررہے ہیں لہٰذا لوگوں کی روزگار کو آسان بنانے کیلئے کراسنگ پوائنٹ بڑھادئیے جائیں تاکہ تیل بردارمحنت کش مزدور اپنا بھوک مٹانے کیلئے باآسانی اپنا مزدوری سرانجام دے سکیں۔

چونکہ کیچ میں امن وامان کی مخدوش صورت حال ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ا ضافہ اور جبری گمشدگی پر شدید تشویش ہے کیچ میں دوبارہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خانہ جنگی پیداکرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے جس میں ذاتی جتھوں اور غیر سیاسی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے اور عوام کو جینے کا حق فراہم کرے اور سیاسی ماحول کو فروغ دینے میں رکاوٹ بننے کی کوشش نہ کرے۔