|

وقتِ اشاعت :   November 7 – 2022

بھاگ: اتوار کے روز سے بھاگ و گردو نواح میں بادلوں کی آنکھ مچولی جاری ہے سیلاب متاثرین کے گھروں کی عدم تعمیر اور بادلوں کی گرج چمک اور سرد موسم کی آمد کو دیکھ کر متاثرین پریشانی سے دوچار چہرے پریشانی سے مرجھا گئے وزیر اعظم کے گھروں کی بحالی کے اعلان کردہ تین لاکھ روپے نہ مل سکے دعوے بے سود متاثرین تاحال کھلے آسمان تلے زندگی گزار رنے پرمجبورمعصوم بچے نمونیا کا شکار ہونے لگے۔

عوامی حلقوں کا اعلی حکام سے فوری رقم جاری کرنے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق تحصیل بھاگ میں تاریخی سیلاب نے 90 فیصد گھروں کو ملیا میٹ کردیا ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے مگر دوماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت نے اس حوالے سے آج تک بحالی کا آغاز نہیں کیا متاثرین شدید گرمی میں اپنے چھوٹے معصوم بچوں اور باعزت پردہ دار خواتین کھلے آسمان تلے کمپرسی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ اتوار روز سے بادلوں کی آنکھ مچولی اور سرد ہوا کے آغاز سے متاثرین کے چہرے پریشانی سے مرجھا گئے جبکہ متاثرین کا زریعہ معاش اور جمع پونجی سیلاب کی نذر ہونے اور کمائی کا زریعہ نہ ہونے سے متاثرین اپنی قیمتی اشیاء اونے پونے داموں فروخت کررہے ہیں لیکن حکومتی اعلان کے باوجود بھاگ کے متاثرین کو کچھ نہ مل نہ سکا ۔
محکمہ موسمیات کی 10 نومبر تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کے بعد متاثرین لوگ خشک محفوظ مقام کی طرف مارے مارے پھر رہے ہیں جبکہ معذور بیوہ مزدور طبقہ شدید پریشانی سے دوچار ہیں عوام بے یارومددگار حکومتی امداد کی منتظر ہیں عوامی حلقوں نے وزیر اعظم پاکستان شہبازشریف وزیر اعلیٰ چیف سیکریٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھاگ کے سیلاب متاثرین کے گھروں کی بحالی کی رقم جاری کی جائے۔