|

وقتِ اشاعت :   February 22 – 2023

یہ سارا کام ان خفیہ ہاتھوں نے کیا جو ہمیشہ پاکستان کے انتخابات میں کرتے ہیں۔ان ناموں میں سے ایک نام سردار فاروق خان لغاری کا بھی تھا۔میاں محمد نواز شریف جو اس وقت قائد حزب اختلاف تھے ،انہوں نے اس اہم موضوع کو خوب کیش کرایا حالانکہ ان کی پارٹی کے کئی اہم رہنما بھی اس سکینڈل میں شامل تھے اور پیسے حاصل کر چکے تھے۔میاں محمد نواز شریف نے بڑے منظم طریقے سے سردار فاروق خان لغاری کو ٹارگٹ کیا۔جب کہ لغاری صاحب کا موقف تھا کہ ان کو یہ رقم رضی فارم کی زمین فروخت کرنے سے حاصل ہوئی ہے۔رضی فارم جامپور شہر سے داجل کی طرف جانے والی مین پختہ روڈ کے شمالی طرف موضع درخواست جمال خان جنوبی میں واقع ہے۔

اس موضع میں عفیفہ ممدوٹ کا ممدوٹ زرعی فارم ، دیہی مرکز صحت قادر آباد،سردار جعفر خان لغاری کا چوکی کپر فارم اور سردار منصور احمد خان لغاری کا بانسوں والا جنگل موجود ہیں۔اس علاقے کی زمینیں ” نواب سر جمال خان لغاری کو انگریز سرکار نے خدمات کے بدلے میں الاٹ کی تھیں۔”میاں محمد نواز شریف بذریعہ سڑک ملکی و غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں اور اپنی پارٹی کے اس وقت کے سینئر رہنماؤں ،اعجاز الحق ،شیخ رشید احمد ،ملتان کے شیخ محمد رشید ڈیرہ غازی خان سے سردار ذولفقار علی خان کھوسہ اور جامپور سے سردار اختر خان گورچانی اور ان کے کزن سردار جاوید اقبال کا گورچانی ،راجن پور سے سردار محمد نصر اللہ خان دریشک کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔

پل ڈاٹ ڈیرہ غازی خان اور سمینہ چوک کے درمیان سڑک کنارے ایک چھوٹی مسجد میں میاں محمد نواز شریف صاحب نے نماز ظہر ادا کی اور سینکڑوں گاڑیوں کا قافلہ چوٹی زیریں کی طرف روانہ ہوا۔پائیگاہ چوک پر پولیس کی بھاری نفری نے ٹریکٹرز اور ٹرالیاں لگا کر روڈ بند کیا ہوا تھا یہاں پر حافظ فاروق احمد چنگوانی نے سردار فاروق خان لغاری کے حق میں نعرہ بازی اور قافلے کے شرکاء پر سنگ باری کرائی۔میاں محمد نواز شریف چوٹی زیریں کے راستے سے رضی فارم جانا چاہتے تھے جبکہ صدر مملکت کی طرف سے ہدایت تھیں کہ میاں محمد نواز شریف کو جامپور کے راستے سے رضی فارم جانے دیا جائے۔کوٹ چھٹہ ،مانہ احمدانی اور دیگر جگہوں پر بھی لغاری سردار کے حامیوں نے خوب نعرے بازی کی اور پتھراؤ کیا۔میڈیا کے اہم نمائندوں میں خوشنود علی خان اور ضیاء شاہد قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں کے نعروں والے بینرز جگہ جگہ لگے ہوئے تھے۔

جب یہ قافلہ جامپور ریلوے پھاٹک پہنچا تو پھاٹک بند کر دیا گیا تھا۔اختر حسن خان گورچانی ،اعجاز الحق اور شیخ رشید احمد نے پولیس سے ہاتھا پائی کرکے زبردستی پھاٹک کھلوایا۔یہاں پر شیخ رشید احمد کا بازو بھی زخمی ہوا۔شدید گرمی سے قافلے کے شرکاء کا برا حال تھا اور وہ خوف کے مارے سواریوں سے اتر کر پانی بھی نہیں پی سکتے تھے کہ کہیں لغاری سردار کے بندے ان پر حملہ نہ کر دیں۔سہ پہر تقریباً پانچ بجے قافلہ رضی فارم کے نزدیک رنگے والی پل پر پہنچا۔میاں محمد نواز شریف اور میڈیا کے نمائندوں نے مقامی لوگوں سے معلومات لینے کی کوشش لیکن مقامی سرداروں کے خوف نے ان کی زبان بند رکھی پھر یہ قافلہ موضع درخواست جمال خان غربی ،محمد گڑھ زرعی فارم کے نزدیک سیم و تھور والی جگہ پہنچا۔اعجاز الحق اور شیخ رشید احمد بسوں سے اتر کر سیم و تھور والی زمین میں چلے گئے اور گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے پھر مقامی راہگیروں نے انہیں نکالا۔

پھر میاں نواز شریف نے پل 14 بستی تالپور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا جس میں ان کی تقریر انتہائی توہین آمیز تھی جو قطعاً دائرہ اخلاقیات میں نہیں آتی تھی۔پھر یہ قافلہ چوٹی زیریں کے راستے سے ڈیرہ غازی خان کیلیے روانہ ہوا۔راستے میں ٹھٹھہ گبولان،قائم والااور معموری کے علاقوں میں قافلے پر سنگ باری ہوتی رہی اور دونوں طرف سے شدید ہوائی فائرنگ بھی ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے کوئی بڑا حادثہ رونما نہ ہوا۔اسی رات نماز عشاء کے بعد پاکستانی چوک ڈیرہ غازی خان پر میاں محمد نواز شریف کا جلسہ بھی تھا جہاں ایک بار پھر میاں محمد نواز شریف نے اس وقت کے صدر پاکستان فاروق خان لغاری اور خاتون وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف انتہائی نازیبا تقریر کی۔یہ سب چیزیں تاریخ کا حصہ ہیں۔

بستی تالپور میں میاں نواز شریف کے جلسے کی میزبانی کا شرف اس وقت کے مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر میر محمد مرزا خان تالپور کو حاصل ہوا تھا۔کچھ دنوں کے بعد اس کے خاندان کے لوگوں پر انتقامی کارروائیوں کا سلسہ شروع ہوا۔ایک محکمہ کے ظالم افسر نے جو ہلاکو کے نام سے مشہور تھا ،اس نے میر محمد مرزا خان تالپور کے بھائی چیئرمین یونین کونسل میر فیض اللہ خان تالپور کو اٹھا لیا تھا اور ناجائز حراست میں رکھ کر اتنا تشدد کا نشانہ بنایا کہ اس کا جگر پھٹ گیا۔اس محکمہ کے ایک سابق ملازم جو اس واقع کے عینی شاہد ہیں نے بتایا کہ
ان کو الٹا لٹکا کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور ان سے سوال کیا جاتا کہ ‘لاہوریے نے آپ کی کوئی مدد نہیں کرنی۔آج سردار فاروق خان لغاری مرحوم کے پوتے حلقہ این اے 193 کے ضمنی الیکشن میں میاں محمد نواز شریف کی مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں۔ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہ باتیں اب بھول چکی ہوں لیکن جو باتیں تاریخ میں آ جاتی ہیں وہ ایک سچے مؤرخ کیلئے بڑے کام دیتی ہیں۔