|

وقتِ اشاعت :   March 9 – 2023

یہ ایک تاریخی سچ ہے کہ دنیا کے مایہ ناز ترقی یافتہ ممالک ایک دور میں بڑی تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن وہاں جان ایف کینڈی اور لوتھر کنگ جیسے انسان پیدا ہوئے تو تاریکی چٹ گئی اور ہر سو اجالا بکھر گیا۔ یہودیوں اور کافروں کے ملک میں جانوروں تک کی مکمل حفاظت کی جاتی ہے ہاں یہ بات نہیں کہ وہاں حادثات نہیں ہوتے لیکن ان کا ردعمل بھی دیدنی ہوتا ہے۔ مملکت خداداد کی بھاگیں ایسے لوگوں نے تھامیں ہیں یا انہیں تھما دی گئیں ہیں جنہیں منزل کا علم نہیں ۔

اکیسویں صدی میں ایسی کوئی ریاست کسی کو کہیں بھی نظر نہیں آتی کہ وہ حکمرانی پاکستان میں کریں اور اپنے خاندان سمیت یورپ میں مقیم ہوں اور شاہانہ انداز میں زندگی بسر کریں۔مملکت خداداد کے نیتا یورپ میں شاندار زندگی بسر کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ دہائیوںسے جاری ہے اور پوری شدت سے رو بصحت ہے یہ الگ بات ہو گی کہ امریکہ بہادر بشمول دینی بھائیوں کے، اپنی ادائیں بدلیں اور ہمارے نیتائوں کا وہی حشر کردیں جو رضا شاہ پہلوی کا کر دیا تھا۔رضا شاہ پہلوی اپنی آپ بیتی ۔

شہنشاہ کی عروج زوال کی کہانی رضا شاہ پہلوی کی اپنی زبانی۔ میں لکھتے ہیں بیوروکریسی جسے خدائی تازیانہ کہنا چاہیے ہمارے ملک ایران میں ایک باقاعدہ ادارے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے سرکاری رقوم کا غبن رشوت ستانی بد عنوانیاں ایک عرصے سے ہمارے معاشرے کا شعار بن گئی تھیں ان کی اصلاحات کے لیے ہم نے اس ضرب المثل پر عمل کیا کہ علاج سے پرہیز بہتر ھے۔یہ تھے رضا شاہ کے فرمان لیکن دنیا نے دیکھا ،نہ پرہیز کام آیا اور نا علاج ہو سکا البتہ جو ہوسکا وہ یہ تھا کہ تاریخ نے خود کو دہرایا شاہ ایران بہادر شاہ ظفر کی طرح دربدر ہوگئے ۔ لگتا ہے ہمارے حکمران مطالعہ کے ذوق سے عاری ہیں انہیں تاریخ سے کوئی دلچسپی نہیں یا یہ اس نوح کے بندے ہی نہیں انہیں کون سمجھائے کہ لیڈر کروڑوں کے عالی شان محلات میں نہیں رہتے بلکہ ملکی عوام کے ساتھ زیست بسر کرتے ہیں اور جن حکمرانوں نے اپنی عوام سے مختلف طرز زندگی بسر کرنے کی کوشش کی ان کا بھیانک انجام تاریخ کے صفحات پرماتم کناں ہے۔

رہی بات بلوچستان کی،بلوچستان کی پسماندگی میں سب سے بڑا ہاتھ خود بلوچ نیتائوں کا ہے یہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر بلوچ وزیر بننے کے بعد خود کو سردار یا جدی پشتی نواب سمجھنے لگتے ہیں ان کے نام کے آگے میر ضرور لگے گا حالانکہ انہیں یہ بالکل نہیں معلوم کہ بلوچ کن لوگوں کو اور کس طرح کے لوگوں کو میر کا درجہ دیتے ہیں۔پھر یکا یک انکے چلنے پھرنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے یہ منرل واٹر کے علاوہ اور پانی نہیں پیتے۔

بلوچ سے متعلق مشہور ہے کہ انہیں کسی کی برتری بالکل نہیں بھاتی۔ بلوچ کے جد امجد چاکر اور گہرام ہیں ان دونوں کی پہچان گہرام لاشاری اور چاکر شیہک ھے۔بلوچ اب بھی جہالت کی گہری کھائیوں میں ہچکولے کھا رہا ہے بلوچستان اسمبلی کے اکثر وزیر کسی بھی زبان میں ایک سطر لکھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔مکران کے سارے وزیر اپنے اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر کے تربت کے پر تعیش علاقوں میں رہائش پذیر ہیں انہیں بالکل نہیں علم کہ انکے علاقوں میں بجلی اسکول اور شفاخانے ہیں کہ نہیں۔ اکیسویں صدی میں بھی ان وزیروں کے علاقوں میں عوام سڑکوں کے نام سے نا آشنا ہیں۔
اگر تربت کے مالک بلوچ کا ذکر نا کیا جائے تو یہ زیادتی ہوگی مالک بلوچ بلوچستان کے واحد سیاست دان ہیں جو سیاست کے نشیب وفراز کو خوب جانتے ہیں مالک بلوچ نے ہمیشہ بلوچ کے مفاد کو ترجیح دی ہے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے تعلیمی میدان میں جو کچھ کیا وہ تاریخ کے درخشاں باب ہیں ۔