|

وقتِ اشاعت :   March 20 – 2023

بلوچستان کی اہم قومی شاہراہیں جو دوسرے صوبوں سے ملتی ہیں ان شاہراہوں پر غیرمعمولی حادثات کے باعث بڑے سانحات رونما ہوتے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ شاہراہوں کادورویہ نہ ہونا ہے خا ص کرکراچی تا کوئٹہ شاہراہ پر ہر ماہ درجنوںحادثات ہوتے ہیں جبکہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں ، اس شاہراہ کو دورویہ کرنے کے لیے ہر سطح پر مطالبہ کیاجارہا ہے تاکہ قیمتی جانوں کوبچایاجائے اور ٹریفک کی روانی بہتر انداز میں رواں دواں ہوسکے مگر افسوس اب تک اس بڑے منصوبے پر کام نہیں ہوا ہے ،یہ صوبائی حکومت کی اہم ذ مہ داری ہے کہ جلد شاہراہ کو دورویہ کرکے عوام کو سفر کے خوف سے نجات دلائے کیونکہ اس شاہراہ پر سفر کرتے وقت لوگ شدید خوف میں مبتلا ہوتے ہیں کہ کسی بھی مقام پر حادثہ رونما ہوسکتا ہے لہٰذا اس جانب توجہ دی جائے اور اس حوالے سے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے قومی شاہراہوں کو دورویہ کیاجائے۔

دوسرا مسئلہ شاہراہوں پر چلنے والی مسافرگاڑیوں میں غیر قانونی پیٹرولیم مصنوعات لادھ دی جاتی ہیں جس سے بڑے سانحات رونما ہوچکے ہیں خاندان کے خاندان اجڑ گئے ہیں، بڑی تعداد میں لوگ جان سے گئے ہیں جن کی شناخت بھی نہیں ہوسکی ہے ۔بہرحال اس پر اب صوبائی حکومت نے اچھا قدم اٹھایا ہے اور ایپکس کمیٹی میں اس اہم مسئلے پر بات چیت کی گئی اور فیصلے کیے گئے۔وزیراعلی ٰبلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت گزشتہ روز ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، صوبائی حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد شروع کر دیاگیا ہے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں صوبے میں قومی شاہراہوں پر خاص طور سے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر مسافر کوچز، بسوں اور ویگنوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کو سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ مسافروں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے گاڑیوں کی رفتار کی جانچ پڑتال کے لیے ان گاڑیوں میں ٹریکرز کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے، ان مسافر گاڑیوں میں پیٹرول، ڈیزل اوردیگر آتش گیر مواد لے جانے پر پابندی کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے ۔

اس ضمن میں صوبہ بھر کے تمام اضلاع کی انتظامیہ نے اپنے علاقوں سے گزرنے والی شاہراہوں پر مسافر گاڑیوں کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے اور تمام گاڑیوں کی رفتار چیک کی جا رہی ہے جبکہ گاڑیوں میں پیٹرول ،ڈیزل یا دیگر آتش گیر مواد کی موجودگی کی نگرانی بھی کی جارہی ہے اس ضمن میں گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر سوراب کی ہدایت پر متعلقہ پولیس نے گاڑیوں کی چیکنگ شروع کی، اس دوران انہوں نے سی پیک زیرو پوائنٹ قومی شاہراہ پر ایک مسافر ویگن کو تیل لے جاتے ہوئے روکا اور ڈرائیور کے خلاف قانون کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی اور ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔ ڈرائیور کے پاس گاڑی کے کاغذات بھی درست نہ تھے جنہیں جعل سازی سے تبدیل کیا گیا تھا۔

چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کی جانب سے تمام کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں اور صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو قومی شاہراہوں پر مسافر گاڑیوں کی رفتار چیک کرنے اور غیر قانونی مواد کی نقل و حمل روکنے کے لیے موثر میکینزم مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت بلوچستان نے جس طرح سے غیر قانونی پیٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر آتش گیر مواد پر پابندی عائد کی ہے اسی طرح سے قومی شاہراہوں کو بھی دورویہ کیاجائے تاکہ مسافر آسانی سے سفر کرسکیں اور ان کی زندگیاں محفوظ ہوں ۔ امید ہے کہ حکومت بلوچستان کے فیصلے پر متعلقہ محکمے ، آفیسران، ضلعی انتظامیہ اور فورسز بھرپور کارروائی کریںگی تاکہ شاہراہوں پر حادثات کو روکنے میں مددمل سکے۔