|

وقتِ اشاعت :   April 8 – 2024

بکری اڑی۔ سب بچے ہاتھ نیچے کیا کرتے تھے، کوا اڑا۔۔۔ سب کے ہاتھ اوپر۔ ہم سب نے کوئوں (بلوچی میں کلاگ یا گْراگ) کو اڑتے دیکھا اور کائیں کائیں کرتے سنا۔ پہاڑ ان کا مسکن ہوا کرتا تھا خوراک کی تلاش انہیں آبادی کی طرف دھکیل دیا کرتا تھا۔ پہاڑی کوے جسامت اور رنگت کے اعتبار سے ساحلی علاقے کے کوئوں سے مختلف تھے رنگ میں مکمل کالا جسامت دو گنا۔۔۔ ساحلی علاقے کا کوئی کوا (جسے مقامی زبان میں کانگی کہا جاتا ہے) بھولے سے غیر علاقہ یعنی پہاڑی علاقہ میںداخل ہو جاتا تو اس کی آمد سے متعلق عجیب و غریب تو ہمات پائے جاتے تھے یہ کہ حکومت جانے والی ہے یا یہ کہ قحط سالی آنے والی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔ پھر ہم نے دیکھا کہ پہاڑی کوا رفتہ رفتہ نگاہوں سے اوجھل ہونا شروع ہوا اب تو کوا کہیں نظر نہیں آتا اور نہ ہی اس کی کائیں کائیں سنا دیتی ہے۔ اب تو اس کا قصہ فراموش سا لگتا ہے۔
ایک اور گوشت خور پرندہ چیل ہوا کرتا تھا۔ جہاں مردہ جانور وہیں یہ گوشت خور پرندہ۔۔ انسان صرف اپنا ہی مردہ جسم دفنانے کا عادی ہے کوئی جانور مرجائے اس سے اسے کیا فرق پڑتا ہے۔ مردہ جانور چیل کا خوراک ہوا کرتے تھے۔ نگاہیں جب چیل کے مجمع پر پڑتیں تو فوراً خیال آجاتا کہ خوراک ان کو ہاتھ آگئی ہے پھر وہ اس خوراک پر ایسے جھپٹ پڑتے کہ اسے گل سڑنے کا موقع ہی نہیں ملتا، چٹ سے ختم کرجاتے۔ پھر چیل کی آبادی نے رفتہ رفتہ کم ہونا شروع کر دیا۔ اب تو حالت یہ ہے کہ مردہ جانور کو کھانے والے چیل کہیں نظر نہیں آتے ،مردہ جانور میدان پر پڑے پڑے گل سڑ جاتا ہے۔ پھر اس کا تعفن ماحول کو بدبودار کر دیتا ہے۔
گھر کے قریب ہی مزری کا ایک بڑا جنگل ہوا کرتا تھا۔۔بچپن میں اسی جنگل کا بادشاہ ہم بچے ہوا کرتے تھے۔ اس جنگل میں ہم خرگوش کو سرپٹ دوڑتے دیکھا کرتے تھے تا وقتِ نگاہوں سے اوجھل نہ ہوجاتا۔ مزری کا جنگل ہم بچا نہ پائے۔ جنگل خالی زمین میں تبدیل ہوا اب نہ وہاں مزری دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی خرگوش کی بھاگ دوڑ۔۔ جہاں کبھی گزرتے ہوئے نمی اور تازگی کا احساس ہوا کرتا تھا اب زمینی تپش ہے اور ہْو کا عالم ہے۔ رونا آئے تو کس بات کا جب سب کچھ ہم نے اپنے ہاتھوں سے ختم کر ڈالا۔ اپنی نادانیوں پر ندامت محسوس ہو تو تب۔
ان تمام مناظر کا راقم خود چشم دید گواہ ہے۔ یہ فقط دو تین مثالیں ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ زندہ مثالیں موجود ہیں۔۔۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوابلکہ رفتہ رفتہ ہوتا چلا گیا ۔ غور و فکر کے لیے بے شمار کہانیاں ہیں اگر ہم یادداشت کو ٹٹولیں تو کہانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اب خدا جانے کہ یہ کیسی مخلوق ہے جسے اشرف یعنی اعلیٰ و افضل ہونے کا لقب ملا ہے جو زمینی مخلوق کو اپنی شوق اور لالچ کا شکار بنا کر زمین سے اس کا ہر اثاثہ چھیننے پر تلا ہوا ہے جس سے زمین سانس لے رہی ہے۔۔
جاھو کی وجہ تسمیہ یہاں کے بزرگ اس کا تعلق ہرنوں سے جوڑ کر بتاتے ہیں۔ جاہ یعنی زمین اور آھو یعنی ہرن۔۔ یعنی ہرنوں کی سرزمین۔۔ جہاں اب انسانوں کی آبادی ہے وہاں کسی زمانے میں جنگلی حیات کا مسکن ہوا کرتا تھا۔ ان کی چراگاہیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ جانور بلا خوف و خطر جیون کا بھر پور مزہ لیا کرتے تھے۔ پہاڑیاں ان کی مسکن ہوا کرتی تھیں۔ پھر رفتہ رفتہ ان مسکنوں پر انسان نے قبضہ کرنا شروع کیا جہاں اس نے دیکھا کہ وہ جنگلی حیات جو اسے جانی نقصان پہنچا سکتا ہے اس نے خطرات کے پیش نظر اس فکر سے آزاد ہو کر کہ وہ شے آپ کی دنیا میں نہیں بلکہ آپ اس کی آبادی میں آگئے ہو نے اس کا صفایا کرنا شروع کیا۔ یہاں کے بہت سارے پہاڑی سلسلے جیسے ہزار بزی کوہ، چل گڑی، بزگل ء ِ بند، پلنگ ء ِ بند، ہپتاری کڈ، گوکو، خرگوشی ایں کڈ، بزگل ء ِ توک، گرک ء ِ شیلگ، آھرّی، گوک ء ِ کور، مار کور، سیدانی آپ، بْزی وغیرہ انہی جنگلی حیات کے نام پر ہیں جہاں کبھی یہ سلسلے ان جنگلی حیات کی ملکیت ہوا کرتے تھے۔ اشرف المخلوقات نے ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے ایسے پڑ گیا کہ انہیں ملکیت کے معاملے سے دستبردار ہونا پڑا۔
رہی بات ہماری عادات اور روایات کی گوشت خوری کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو پاتا اگر ایک دن بھی گوشت کا ذائقہ نہ چکیں تو مسوڑوں میں خارش پیدا ہوجائے۔۔ فارمی مرغیوں یا پالتو جانوروں سے جی کیا بھرے پھر شوق کو پورا کرنے کے لیے چاہے کتنے ہی جنگلی حیات سے ان کی حیات چھین لیں تو اس سے کیافرق پڑتا ہے۔۔۔ جیسے یہ کائنات فقط انسانی وجود کے رہنے کے لیے بنایا گیا ہے لیکن ہم اس چیز سے قاصر ہیں کہ کائنات کی بقا کائنات کی ہر اس شے سے جڑی ہوئی ہے جو قدرت نے تخلیق کیا ہے۔۔ ہر شے اپنے اپنے دائرے کے اندر زندگی بسر کر رہا ہے ہٹ دھرم انسان بن گیا ہے وہ کائنات کی ہر اس شے کو فنا کرنے پر تلا ہوا ہے جو سانس لے رہی ہے اس سے سانس لینے کا ذریعہ کیسے چھینا جائے انسان تمام حربے آزما رہا ہے۔
آواران کا علاقہ جاھو جس کی نسبت ہی ہرنوں سے ہے اسلحے کی چند سالہ خاموشی نے ہرنوں کو سکھ کا سانس لینے اور افزائشِ نسل کا موقع فراہم کیا تھا، گولیوں کی گھن گرج سے آزاد فضاؤں نے انہیں ایک بار پھر سے یقین دلایا تھا کہ اب وہ کھل کر حصولِ خوراک کے لیے چہل قدمی کرسکتے ہیں۔ ان کی چہل قدمی نے جاھو کے شوقین شکاریوں کو ایک بار پھر سے سرگرم کیا ہے۔ شب ہوتے ہی نئے اور پرانے بندوق بردار اشرافیہ جن کو شکاری کے القابات سے نوازا جا چکا ہے پہاڑی علاقوں کا رخ کرکے جنگلی حیات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور پھر دن بھر اپنی بہادری کے قصے سنا سنا کر اس شکاری سلسلے کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں۔ انہیں لگام دینے والا کوئی نہیں ہے اور اِس جرم کے مرتکب اکیلے شکاری نہیں ہو رہے ہیں۔ بلکہ اس گھناؤنے اور وحشیانہ عمل میں انتظامیہ اور علاقائی بااثر افراد کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔
ہم سب کی بقا کائنات کی بقا میں ہے ،کائنات اپنا وجود اس صورت میں قائم رکھ سکتی ہے جب اس کی ہر شے کو جینے کی ضمانت ملے۔۔ پوری دنیا اس وقت ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو لے کر پریشان ہے۔ دبئی میں منعقدہ ماحولیاتی پروگرام جس میں پاکستان بھی شامل تھا سب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ماحولیات کی دفاع کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے عوامل کی تدارک کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔ جنگلی حیات کے مسکن محفوظ کیے جائیں۔ جاھو میں جنگلوں کے جنگل ختم کرکے جنگلی حیات کو ان کے مسکن سے محروم کیا گیا تھا ایسے عمل کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ علاقائی سطح پر جنگلات اور جنگلی حیات سے متعلق موضوعات پر آگاہی پروگرام رکھے جائیں اور بالخصوص سکولوں کی سطح پر ماحول دوست، جنگلات و جنگلی حیات دوست موضوعات کو نصاب کا حصہ بنائیں۔ اس سے ہم آنے والی نسل کو جنگلات و جنگلی حیات کی اہمیت سے آگاہ کر سکیں گے۔