|

وقتِ اشاعت :   April 22 – 2025

سینیٹ کا اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا، پیپلز پارٹی نے نہروں کے منصوبے کے خلاف ایک بار پھر اجلاس سے واک آؤٹ کیا، سنی اتحاد کونسل اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے نکتہ اعتراض پر وقت نہ دینے پر احتجاج اور شدید نعرے بازی کی، کورم کی نشاندہی پر بھی اپوزیشن ارکان بھڑک اٹھے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس کا آغاز ہوا، اجلاس میں کورم کی نشاندہی کی گئی، کورم کی نشاندہی سینیٹر شہادت اعوان نے کی۔

دوران اجلاس پی ٹی آئی سینیٹرز کی جانب سے پیپلزپارٹی کی منافقت نا منظور کے نعرے لگائے گئے۔

سینیٹ اجلاس میں نکتہ اعتراض پر وقت نہ دینے پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے شور شرابہ کیا گیا، پیپلزپارٹی سمیت دیگر سینیٹرز اٹھ کر چیئرمین کی ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور شدید احتجاج کیا۔

پانی پہ ڈاکا نامنظور کے نعرے ایوان میں گونجنے لگے، جس کے بعد پیپلزپارٹی کے اراکین نے کینالز ایشو پر ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے شور شرابے کے دوران ہی اپنا خطاب جاری رکھا اور کہا کہ دریائے سندھ سے کینالز نکالنے کے معاملے پر بیٹھ کر بات ہوگی، یہ تھر پارکر کا الیکشن ہار گئے ہیں، اس طرز سیاست سے ملک کی خدمت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے درمیان رابطہ ہوا ہے، آج کابینہ کے اراکین سوالوں کے جواب دیں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے درخواست کی کہ پیپلزپارٹی کے سینیٹرز ایوان میں واپس آ جائیں، نعرے بلند کرنے کے بجائے یہاں ایوان میں بات کی جائے، کینالز کا معاملہ آئین و قانون کے مطابق حل کیا جائے گا، کوئی بھی چیز بلڈوز نہیں ہوگی۔

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کے رویے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا رویہ رکھا تو مسئلہ حل نہیں ہوگا، اپوزیشن کو عمر کوٹ کےعوام نے مسترد کردیا، نعروں پر حیرت ہے، اپوزیشن کے پاس نہ سوال ہیں نہ ہی سننے کی ہمت، پیپلزپارٹی کے دوستوں سے بھی ایوان میں آنے کا کہوں گا۔

سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، چیئرمین سینیٹ کو معاملہ دیکھنا ہوگا۔

شبلی فراز نے خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن کرانے کا مطالبہ بھی دہرادیا اور سوال کیا کہ خیبرپختونخوا میں آج الیکشن ہوئے تو ارکان کی 6 سالہ مدت کیسے پوری ہوگی، چیئرمین سینیٹ پروڈکشن آرڈرجاری کرتے ہیں مگرعمل نہیں ہوتا، ہم سے اختلاف ہے تو ہمیں باہر نکال دیں۔

قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسی ہاؤس میں آئین کی کئی شقوں کی خلاف ورزی کی گئی، قانون سازی قانون شکنی سے نہیں ہوسکتی، قانون پرعمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایوان میں انتخابات تو ہوئے مگر ان کے نتائج کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا، جو آئینی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اجلاس کے دوران کورم کی نشاندہی بھی کی گئی، جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ سینیٹ اجلاس کا کورم مکمل نہیں تھا، جس پر ایوان کو 5 منٹ کے وقفے کا سامنا کرنا پڑا۔

شبلی فراز نے سینیٹ میں اپنی تقریر کے دوران خیبر پختونخوا کو اس کے آئینی حق سے محروم کیے جانے پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ پورے سال کے حوالے سے بات کریں مگر ہمیں سننے کو تیار کوئی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں نظام منجمد ہو چکا ہے اور عوام سراپا احتجاج ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کا کینالز کے معاملے پر رویہ منافقانہ ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے صدر پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے جولائی میں ایک بات پر ایگری کیا اور پھر اپنی ہی تقریر میں اس کی مخالفت کی۔

شبلی فراز نے بلوچستان میں بدترین حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایسا ماحول بن چکا ہے کہ آمد و رفت تک محدود ہو گئی ہے۔ انہوں نے پنجاب میں کسانوں کے مسائل پر بھی ایوان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے پر فعال کردار ادا کرے۔

اپنی تقریر کے اختتام پر پی ٹی آئی رہنما نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جلد از جلد انتخابات کروائے جائیں، ایک فرنٹ لائن صوبے کو محروم کیا جا رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کا یہ حق ہے کہ اس ایوان میں اس کی مکمل نمائندگی ہو۔