ایران اسرائیل جنگ میں مزید شدت پیدا ہوتی جارہی ہے دونوں ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں، مشرق وسطیٰ میں یہ جنگ انتہائی خطرناک ثابت ہوگی جو پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران بھرپور دفاعی حملے کررہا ہے، اسرائیل نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کو جواز بناکر حملہ کیا ہے مگر اس کا مقصد جوہری ہتھیار نہیں بلکہ ایران میں رجیم چینج ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کی دھمکیا دی گئیں ہے جس سے واضح ہو تا ہے کہ اسرائیل اور اس کی پشت پر موجود عالمی طاقتیں ایران کی موجودہ لیڈر شپ کو ہدف بنانا چاہتی ہیں اورایران کے دفاعی نظام کا مکمل خاتمہ چاہتی ہیں تاکہ وہ اپنی من پسند حکومت ایران میں لاسکیں جس طرح لیبیا، عراق، شام میں کیا گیا مگر یہ تجربہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جو پوری دنیا کوجنگ کی طرف دھکیل دے گا۔
ایران کی قیادت آخری حد تک اپنی دفاع میں جائے گی جو موجودہ ایرانی حملوں سے ظاہر ہوتا ہے۔
امریکی صدر پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ تہران کو خالی کردیا جائے اور ایران غیر مشروط طور پر سرینڈر ہو۔
اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ چند دنوں یا ہفتوں میں امریکہ براہ راست اس جنگ میں شامل ہوسکتا ہے اس امکان کو امریکی صدر کے بیان سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جبکہ ایران بھی پہلے یہ کہہ چکا ہے کہ امریکہ اگر اس جنگ میں شامل ہوا تو اس کا جواب بھرپور طریقے سے دیا جائے گا ۔
ایرانی نفسیاتی طور پر مکمل تیار ہیں کہ کسی بھی وقت امریکہ جنگ میں شامل ہوکر ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔
اب امریکہ کے بڑے میڈیا ہاؤسز بھی اس جانب اشارہ دے رہے ہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کردے گا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکا کا ایران پر حملہ ثابت کرے گا کہ خطے میں چین کی طاقت محدود ہے۔
امریکی اخبار میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ چین امریکا کے خلاف ایران کی ملٹری لحاظ سے مدد کرے، چین زیادہ سے زیادہ ایران کو دفاعی ساز و سامان فراہم اور سیاسی و سفارتی حمایت کرسکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چینی صدر شی جن اور روسی صدر پیوٹن کی فون کال کے بعد جاری بیان میں بھی صرف فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مضمون کے مطابق چینی صدر کی جانب سے اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت نہیں کی گئی ہے۔
دوسری جانب نیو یارک ٹائمز کی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی زیر زمین جوہری تنصیب ‘فوردو’ پر حملے کا فیصلہ کیا تو یہ ایک ایسا قدم ہوگا جس میں ہر موڑ پر سنگین خطرات موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کے بی-2 بمبار طیارے زمین سے آدھا میل نیچے واقع فوردو تنصیب کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کے لیے 30 ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کرنا پڑے گا اور اس آپریشن میں کئی تکنیکی اور عسکری چیلنجز درپیش ہوں گے۔
اگرچہ یہ حملہ بظاہر ممکن نظر آتا ہے لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس پر امریکی حملہ ہوا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنائے گا۔
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ تاحال حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کر پائے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کر سکتا ہوں، یا شاید نہ کروں، کوئی نہیں جانتا میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔
ایران، اسرائیلی حملوں کے بعد ممکنہ طور پر مذاکرات کا راستہ تلاش کررہا ہے۔
ایرانی حکام کی طرف سے عمان میں ایک سرکاری طیارے کی آمد اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
تاہم اگر امریکا براہِ راست مداخلت کرتا ہے اور فوردو تنصیب کو نشانہ بناتا ہے تو اس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خطرہ ہے جس میں امریکی فوجی اور شہری ہلاکتوں کاخطرہ بھی شامل ہے۔
نیو یارک ٹائمز نے سابق امریکی سفیر اور قومی سلامتی کونسل کے ارکان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر امریکی شہریوں کو نشانہ بنائے گا جس کے جواب میں امریکا بھی مزید کارروائی پر مجبور ہو جائے گا اور یوں ایک بار پھر واشنگٹن کو ’رجیم چینج‘ جیسی پالیسی کی طرف دھکیل دیا جائے گا جو اب امریکی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں ماضی کے تجربات جیسے شمالی کوریا اور عراق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جوہری پروگراموں کو صرف بمباری سے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں،اس کے برعکس ایسی کارروائیاں دشمن ممالک کو مزید خفیہ اور تیز رفتار طریقے سے جوہری صلاحیت حاصل کرنے پر آمادہ کر سکتی ہیں۔
امریکی صدر کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کافی ہیں یا امریکا کو براہِ راست حملے کا خطرناک راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
بہرحال امریکی صدر نے چند ہفتوں کو اہم قرار دیا ہے اگر امریکہ نے یکدم سے ایران پر حملہ کیا تو ایران امریکی مفادات کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔
ایران آخری حد تک اپنے دفاع کیلئے جائے گا، مشرق وسطیٰ میں اس وقت صورتحال انتہائی نازک موڑ میں داخل ہوتی جارہی ہے ، ہر لمحہ انتہائی اہم ہے اگر یہ جنگ طول پکڑ گیا تو یقینا دیگر عالمی طاقتیں بھی جنگ میں کود پڑینگی خاص کر مغرب امریکہ اوراسرائیل کا ساتھ دے گا۔
روس، چین جیسے بڑے ممالک کا کردار کیا ہوگا یہ کہنا قبل ازوقت ہے مگر یہ نہیں لگتا کہ چین اور روس اس جنگ میں براہ راست شامل ہوکر ایران کا ساتھ دیں گے بلکہ ان کی کوشش ہوگی کہ سفارتی ذرائع سے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے مگر اس کے امکانات بھی کم دکھائی دے رہے ہیں۔