|

وقتِ اشاعت :   June 27 – 2025

بلوچستان اسمبلی نے آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ کی منظوری دے دی۔ اسمبلی نے 896 ارب 47 کروڑ 46 لاکھ روپے سے زائد کے 94 مطالباتِ زر منظور کر لیے، بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بجٹ میں شامل اہم منصوبوں کا اعلان کیا۔
اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیرِ صدارت بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں صوبائی وزیرِ خزانہ شعیب نوشیروانی نے نئے مالی سال کے بجٹ کے لیے مجموعی طور پر 94 مطالباتِ زر پیش کیے۔
ایوان نے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 660 ارب 83 کروڑ 43 لاکھ روپے، جبکہ ترقیاتی اخراجات کے لیے 289 ارب 64 کروڑ روپے کے مطالباتِ زر کی منظوری دی۔
اپوزیشن اراکین نے مطالباتِ زر میں کٹوتی کی 11 تحریکیں پیش کیں جو رائے شماری کے ذریعے مسترد کر دی گئیں۔
بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران 16 ہزار بھرتیاں کی گئیں، 3200 بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جبکہ ترقیاتی بجٹ کا 100 فیصد استعمال کیا گیا۔ آئندہ مالی سال کے دوران صوبے کے 10 شہروں میں سیف سٹی پروجیکٹ، چاغی میں انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام، کوئٹہ کے شہریوں کے لیے پیپلز ٹرین سروس اور ایک ماہ کے اندر پیپلز ایئر ایمبولینس شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
اسمبلی اجلاس میں بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کی غرض سے 20 ارب روپے مختص کرنے، صوبے کے 100 تھانوں کی ازسرِ نو تعمیر کر کے انہیں قلعہ نما بنانے اور دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے سرکاری و سول شہداء کے لواحقین کے لیے امدادی رقم میں اضافے کا اعلان کیا۔
بہرحال بلوچستان کا بجٹ دیگر صوبوں کی نسبت کم ہے بلوچستان کے محاصل میں اضافے سے مستقبل میں صوبہ اپنے بجٹ سے میگا منصوبوں کا آغاز کرنے سمیت مالی و انتظامی امور میں خاطر خواہ تبدیلی لا سکتی ہے۔
عوام کے بنیادی مسائل حل، روزگار کے وسیع مواقع، ملازمین کو ریلیف سمیت دیگر اقدامات اٹھائے جاسکیں گے۔
بلوچستان کے مسائل بہت زیادہ ہیں جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر یہ چند ماہ کے دوران حل نہیں ہوسکتے اس کیلئے لانگ ٹرم پالیسی کی ضرورت ہے جس میں معاشی ترقی، انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ ناگزیر ہے۔ بلوچستان کے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقیاتی اہداف کا حصول ممکن ہوگا مختلف شعبوں میں بیرونی اور حکومتی سرمایہ کاری بہت ضروری ہے تاکہ صوبے کو درپیش مشکلات سے نکالا جاسکے۔
حالیہ بجٹ میں جو اہداف مقرر کئے گئے ہیں اس سے صوبے میں ترقی سمیت عوامی مشکلات میں کمی آنے کے قوی امکانات ہیں۔