|

وقتِ اشاعت :   June 30 – 2025

پاکستان میں سیاحت اہم ترین شعبہ ہے ۔
بلوچستان، کے پی کے، کشمیر، گلگت بلتستان سمیت دیگر صوبوں میں جنت نظیر مقامات ہیں، سیاحتی مقامات پر سرمایہ کاری کے ذریعے سیاحت کے شعبے کو فروغ دیا جاسکتا ہے جس میں ملکی اور بیرونی سیاحوں کیلئے تمام تر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ سیاحتی مقامات کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
سیاحتی مقامات پر سہولیات کے فقدان کی وجہ سے اکثرسانحات رونما ہوتے ہیں ،مری سانحہ کے بعد سوات میں جو کچھ ہوا یہ ناقابل برداشت ہے، اس پر سیاست کی بجائے کوتاہیوں کو دور کرنے کے ساتھ بہترین سہولیات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے بروقت ریسکیو جیسے انتظامات ضروری ہیں۔
جب صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے الرٹ جاری کیا جاتا ہے تو شہریوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کے پیش نظر ایسی تفریح مقامات کا رخ نہیں کرنا چاہئے جہاں موسمی حالات خراب ہونے سے جانی نقصان کا خدشہ موجود ہو۔
سوات سانحہ کے بعد سوشل میڈیا پر اس واقعے کو مذاق کے طور پر لیتے ہوئے جس طرح کے ویڈیوز بناکر ویورز بڑھانے کی گھٹیا کوشش کی جارہی ہے یہ شرمناک عمل ہے مہذب معاشروں میں اس طرح کے واقعات پر افسردگی اور متاثرہ خاندان سے ہمدردی کے ساتھ کوتاہیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے تاکہ اس طرح کے ہولناک واقعات دوبارہ رونماء نہ ہوں۔
یہ بات اپنی جگہ بالکل بجا ہے کہ کے پی کے حکومت ہر وقت سرکاری مشینری استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھا ئی کے لیے تیار رہتی ہے مگر سوات جیسے اہم تفریحی مقام پر ریسکیو کی بروقت انتظامات اور سیاحوں کیلئے سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے سوئی رہتی ہے جس پر جائز تنقید کی گنجائش موجود ہے جس طرح مری میں لوگوں کے ساتھ رویہ اپنایا گیا تو صوبائی حکومت پر تمام میڈیا نے تنقید کی۔
بہرحال سیاحتی مقامات پر حفاظتی انتظامات سمیت سیاحوں کیلئے تمام تر سہولیات کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بنتی ہے کوئی بری الزمہ نہیں ہمیں اپنے تفریحی مقامات کی خوبصورتی بڑھانے کے ساتھ سہولیات کیلئے بھی ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ سیاحوں کو سیر و تفریح کے دوران کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سیاحتی مقامات پر ہوٹل مالکان کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ جب انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے ہنگامی الرٹ جاری کیا جاتا ہے ، موسم کے پیش نظرسیر و تفریح پر پابندی لگائی جاتی ہے، توانہیںاپنے ہوٹل بند کردینے چاہئیں،اپنے کاروبار کے لیے انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنا مجرمانہ عمل ہے جس پر سخت کارروائی ہوٹل مالکان کے خلاف بھی ہونی چاہئے۔
اب بیانات سے آگے قانونی چارہ جوئی کرکے غفلت برتنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سوات سانحہ کے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کی غفلت کا مظاہرہ نہ ہوسکے۔