وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایچ آر سی پی وفد کی ملاقات — انسانی حقوق، امن و امان اور سماجی ترقی پر تبادلہ خیال
کوئٹہ:: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی جس میں صوبے میں امن و امان، انسانی حقوق کی صورتحال اور سماجی ترقی کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزیراعلیٰ نے وفد کو صوبے کی مجموعی صورتحال، تاریخی پس منظر اور موجودہ چیلنجز سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ “بلوچستان سے متعلق تصور اور زمینی حقائق میں واضح فرق ہے، جسے سمجھنا ناگزیر ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ انسانی حقوق پر کام کرنے والے اداروں کو بلوچستان کی درست تاریخ اور زمینی حقائق سے آگاہ ہونا چاہیے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق زبردستی نہیں بلکہ باہمی رضامندی سے ہوا تھا۔
انہوں نے ریاست مخالف عناصر کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ شناخت کی بنیاد پر معصوم شہریوں کا قتل دشمن ملک کی سازشوں کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں حقوق کی نہیں بلکہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے کی جاتی ہیں۔
“دہشتگرد کوئی بات چیت نہیں چاہتے، ان کا مقصد صرف پاکستان کو کیک کی طرح کاٹنا ہے،” انہوں نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے گناہ پنجابیوں کے قتل اور دہشتگردی کی ہر کارروائی کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ صرف بلوچستان کا نہیں بلکہ دیگر صوبوں اور دنیا میں بھی موجود ہے۔ بلوچستان میں اس حوالے سے جامع قانون سازی کی جا چکی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئین پاکستان ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کو بنیادی حق قرار دیتا ہے اور ریاست دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا مکمل آئینی اختیار رکھتی ہے۔