|

وقتِ اشاعت :   September 4 – 2025

 

کوئٹہ :تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ و چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سمیت، اے این پی کے صوبائی صدراصغر خان اچکزئی ،پی ٹی آئی کے صوبائی صدر داود کاکڑ،مجلس وحدت المسلمین کے علامہ ولایت حسین جعفری اوردیگر نے 2 ستمبر کو شاہوانی اسٹیڈیم سریاب روڈ پر سردار عطا اللہ مینگل کی چوتھی برسی کے موقع پر ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے 8 ستمبر کو صوبے بھر میں ریل سمیت پہیہ جام، شٹر ڈاؤن ہڑتال، جلوس اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
یہ بات انوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے میں اس دھماکے کے مقصد کو نہ سمجھ سکا ہوں اور نہ اس سے سنبھل سکا ہوں۔
ہمارے ملک میں اصل حکمران آرمی چیف ہیں جو حافظ قران بھی ہے اور یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ایک معصوم بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔
اگر مقصد اس صوبے کی تمام قیادت کو اڑانا تھا تو اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوتا؟انہوں نے کہا کہ اس ملک میں بارہا آئین کو توڑا گیا اور پامال کیا گیا لیکن سزا تو دور کی بات ہے، آج تک کسی سے باز پرس تک نہیں کی گئی۔
یہاں بیٹھے بیشتر رہنماؤں نے کئی مرتبہ بطور ممبر پارلیمنٹ آئین کی پاسداری اور اس کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے۔ ہم آئین کے تحفظ اور بالادستی کے لیے جمہوری اور سیاسی جدوجہد کرتے رہیں گے اور یہ جدوجہد ڈنکے کی چوٹ پر کرتے رہیں گے ہم کسی کے غلام نہیں، یہاں نہ کوئی آقا ہے اور نہ غلام ہم انسانیت پر یقین رکھتے ہیں اور رنگ، نسل، زبان اور عقیدے کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل پر پہلا حق ہمارا ہے، یعنی صوبوں اور مقامی آبادی کا ان کے حصے کا واضح تعین ہونا چاہیے۔ دھماکے کے ذمہ داروں کو تلاش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ اس ریاست کی خفیہ ایجنسیاں خود کو نمبر ون قرار دیتی ہیں۔
اگر یہ ذمہ داروں کو تلاش نہ کرسکیں تو ہمارے قتل کے ذمہ دار ریاست اور اس کے ادارے ہوں گے اور یہ وصیت ہم اپنے لوگوں کو کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم جھکنے والے نہیں اور عوام کے حق حکمرانی و معاشی و ثقافتی حقوق غصب کرنے والے غاصبوں کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے۔
محمود خان اچکزئی نے 8 ستمبر کے جامع سیاسی احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم عوام کے جذبات سے کھیلنا چاہتے تو اس رات ہماری جماعتوں کے کارکن صوبے کے تمام تھانے اور سرکاری دفاتر جلا سکتے تھے لیکن ہم نے ایک پرامن، سنجیدہ اور مؤثر سیاسی جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
8 ستمبر کو ریل، ایئرپورٹ، پہیہ اور شٹر سمیت سب کچھ بند ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن اور ایران کے ساتھ متصل بارڈرز پر تمام تجارتی راستے کھولے جائیں اور ان پر مناسب قواعد و ضوابط کے ساتھ آزادانہ تجارت کروائی جائے۔ آخر میں محمود خان اچکزئی نے تمام سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو دعوت دی کہ آئیں سب مل بیٹھ کر جرنیلوں سے دو ٹوک بات کریں کہ بس بہت ہوچکا، اب ملک کو آئین و قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق چلانا ہوگا جہاں آئین بالادست ہو اور پارلیمنٹ خود مختار ہو۔
اس صورت میں پاکستان دس برسوں میں ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے۔اس موقع پر سردار اختر جان مینگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ 2 ستمبر کا سانحہ دل چیر دینے والا واقعہ ہے۔ جس اسٹیڈیم میں 15 منٹ پہلے پرجوش سیاسی نعرے لگانے والے نہتے کارکن موجود تھے، انہیں خون میں نہلا دیا گیا۔ اگر 29 مارچ کے واقعے کے ذمہ داروں کو تلاش کرکے سزا دی جاتی تو 2 ستمبر کے معصومین کا خون ناحق نہ بہتا۔انہوں نے کہا کہ یہ ریاست سیاسی کارکنوں کے خلاف تو ہر حربہ استعمال کرسکتی ہے
لیکن دہشت گردوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہتی ہے۔ اب دہشت گردی کے پیچھے صرف وردی والے نہیں بلکہ بغیر وردی والے بھی ہیں۔ نواب بگٹی کے قتل سے کچھ نہیں سیکھا گیا، اب ہمیں بھی قتل کیا جارہا ہے۔ یہ حملہ صرف بی این پی پر نہیں بلکہ پورے صوبے کی پشتون بلوچ قیادت پر تھا۔ یہ شہداء صرف بی این پی کے نہیں بلکہ پورے صوبے کے سیاسی شہداء ہیں اور ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔پریس کانفرنس سے نیشنل پارٹی کے کبیر محمد شہی، اے این پی کے اصغر خان اچکزئی، پی ٹی آئی کے داود شاہ کاکڑ اور مجلس وحدت المسلمین کے علامہ ولایت حسین نے بھی خطاب کیا۔
تمام رہنماؤں نے اپنے اپنے جماعتی کارکنوں، عوام، تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز، سول سوسائٹی اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں اور برادریوں سے اپیل کی کہ وہ 8 ستمبر کو صوبے کے تمام اضلاع میں اس پرامن مگر بھرپور جامع ہڑتال اور احتجاجی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ شہداء کے لہو کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے اور اس سانحہ کے خلاف ایک مؤثر سیاسی پیغام دیا جا سکے۔