کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) پر عملدرآمد سے متعلق اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات، وزیر مواصلات و تعمیرات، وزیر تعلیم، چیف سیکرٹری بلوچستان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات زاہد سلیم، اور تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری زاہد سلیم نے جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ان محکموں کو شاباش دی جو منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں، جبکہ سست روی کے شکار محکموں کی سخت سرزنش کی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام محکمے جنوری تک منظور شدہ اسکیموں کی تکمیل یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے مئی 2026 تک تمام مجوزہ اسکیموں کی ٹیکنیکل اپروول مکمل کی جائے۔
گرین بس منصوبے کی توسیع سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئی گرین بسیں خرید لی گئی ہیں جو اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں کراچی پورٹ پہنچ جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے گرین اور پنک بس توسیعی منصوبے کو ہر صورت اکتوبر میں مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں گرین بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، جبکہ خواتین کے لیے پنک بس سروس بھی جلد شروع کی جائے گی۔
اجلاس میں خواتین کو خودمختار بنانے کے لیے ایک اور اہم فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت ورکنگ ویمنز کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور عملدرآمد کی سخت نگرانی کے لیے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو متحرک کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عام آدمی کی مشکلات کم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام محکمے اپنا فعال کردار ادا کریں۔