کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 17ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں شورش نہیں بلکہ علیحدگی کی نام نہاد تحریکیں سرگرم ہیں جنہیں ملک دشمن عناصر ہوا دے رہے ہیں۔ ان عناصر کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور اسے کیک کی طرح ٹکڑوں میں بانٹنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “ناراض بلوچ” کی اصطلاح دہشت گردی کو جواز دینے کے لیے استعمال کی گئی، جبکہ بندوق کے زور پر تشدد کرنے والا شخص دہشت گرد ہوتا ہے، ناراض نہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کو بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کیے جا رہے ہیں، تاہم حکومت جامعات اور دیگر فورمز پر جا کر نوجوانوں کے گلے شکوے سن رہی ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ حکومت بلوچستان نے اس جنگ کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اپنایا ہے۔ سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اور سیکیورٹی فورسز ان علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں جہاں دشمن اور دوست کی پہچان مشکل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں 3200 غیر فعال اسکولز اور 164 بنیادی طبی مراکز کو فعال کیا گیا ہے۔ صحت و تعلیم کے شعبوں میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 24 ذیلی اضلاع میں گزشتہ 12 برسوں سے اسسٹنٹ کمشنرز تعینات نہیں تھے، جنہیں موجودہ حکومت نے تعینات کرکے ریاستی رٹ بحال کی ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیاست سے زیادہ اہم ریاست پاکستان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لاحاصل جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور بلوچ عوام کو بند گلی میں دھکیلنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
وزیر اعلیٰ کا خطاب بلوچستان میں جاری حالات، چیلنجز اور حکومتی اقدامات کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ریاستی رٹ کی بحالی، نوجوانوں سے رابطہ، اور دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف نمایاں ہے۔