|

وقتِ اشاعت :   February 11 – 2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پی پی ایل انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی حکومت اور پی پی ایل کے مابین طے پانے والے معاہدے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے اسکالرشپس، سوئی ٹاؤن کی طوطا کالونی، عدل خان اور پھونگ کالونی میں گیس کی عدم فراہمی، سن کوٹہ، مقامی بھرتیوں اور ملازمتوں میں سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوئی سے نکلنے والی گیس سے سوئی ٹاؤن کے باسیوں کا محروم ہونا افسوسناک ہے اور آج بھی سوئی کی خواتین لکڑیوں پر روٹی پکانے پر مجبور ہیں، جو ناقابل قبول صورتحال ہے۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ پی پی ایل کی جانب سے معاہدے کے باوجود وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونا تشویشناک ہے۔ اسکالرشپس، سن کوٹہ اور مقامی بھرتیوں میں تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ سن کوٹہ کے تحت خالی آسامیوں پر فوری طور پر مقامی افراد کی بھرتی کی جائے۔ ویل چوکیدار کی پوسٹوں پر مقامی افراد کی بھرتی میں حیل و حجت بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کہ جب تک موجودہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوگا، نئے معاہدے نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا مفاد سب سے مقدم ہے اور وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔ مقررہ ٹائم لائن میں عملی پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں دیگر آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں پی پی ایل حکام نے بتایا کہ گیس فراہمی کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور یقین دہانی کرائی کہ تمام زیر التواء امور کو جلد از جلد نمٹا کر عوامی مسائل و مشکلات کا ازالہ کیا جائے گا۔