کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبہ بھر میں تعلیمی اداروں کی بندش میں31مارچ تک توسیع کے فیصلے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے عجلت اور جلد بازی پر مبنی اورتعلیم دشمن اقدام قرار دیا ہے۔
امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا بلوچ نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی بندش کا نوٹیفکیشن سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ فیصلہ تعلیم دشمنی کے مترادف ہے۔جنگ ایران میں لیکن ایران کے تعلیمی ادارے کھلے پٹرولیم مصنوعات میں کوئی اضافہ نہیں۔
عوام وتعلیم سے محبت کرنے والی قومیں عجلت میں تعلیم وعوام دشمن فیصلے نہیں کرتے۔بلوچستان میں تعلیم ومعیشت پہلے سے تباہ وبربادمگرحکومت کواس کی فکرنہیں۔
مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے مزیدکہاکہ تعلیمی سرگرمیوں کی مسلسل معطلی سے طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیئے جائیں گے۔دنیا کے مختلف خطوں میں مشکل حالات کے باوجود تعلیمی ادارے کھلے رکھے جاتے ہیں،
حتی کہ ایران جیسے ملک میں بھی کشیدہ صورتحال کے باوجود تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں، مگر بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو بند کرنا ناقابلِ فہم اقدام ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور طلبہ کے تعلیمی تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیئے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے ایسے فیصلوں سے گریز کیا جانا چاہیئے جو نئی نسل کے مستقبل کو متاثر کریں۔