مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران کے اہم توانائی انفرااسٹرکچر، شہری علاقوں اور عسکری اہداف پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے شہر اصفہان میں اہم توانائی تنصیبات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جہاں گیس انتظامی عمارت اور گیس پریشر ریگولیشن اسٹیشن متاثر ہوئے۔ جنوبی مغربی ایران میں خرم شہر پاور پلانٹ کی گیس پائپ لائن پر بھی حملہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے ایران کے توانائی انفرااسٹرکچر پر حملے پانچ روز کیلئے مؤخر کرنے کے اعلان کے باوجود حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔
دوسری جانب بحرین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز میں طاقت کے استعمال کی منظوری دینے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ قرارداد میں “تمام ضروری اقدامات” کی اجازت کی سفارش شامل ہے، جسے امریکا اور خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے، تاہم منظوری کے امکانات کم بتائے جا رہے ہیں۔ فرانس بھی اس معاملے پر متبادل قرارداد تیار کر رہا ہے جبکہ بحری اتحاد کے ذریعے جہاز رانی کے تحفظ کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
ادھر اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق تل ابیب پر ایرانی میزائل حملے میں کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد گاڑیوں، گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تبریز کے رہائشی علاقوں پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 6 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت حملوں کی نئی لہر شروع کر دی گئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق 78ویں لہر میں ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت مختلف اہداف پر ملٹی وارہیڈ میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے گئے، جن میں عماد اور قدر میزائل استعمال ہوئے جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران کی تمام جنگی یونٹس اور بسیج فورسز ابھی مکمل طور پر میدان میں نہیں اتاری گئیں، تاہم ضرورت پڑنے پر انہیں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
اسی دوران ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران جلد “بڑا سرپرائز” دینے والا ہے، جس کے اثرات آسمان، اسٹاک مارکیٹ اور عالمی تیل کی قیمتوں تک محسوس ہوں گے۔
ادھر متحدہ عرب امارات کے ایک اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری جنگ میں روزانہ تقریباً 2 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے، جبکہ ابتدائی چھ دنوں میں جنگی اخراجات 11.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے، جبکہ پنٹاگون نے کانگریس سے مزید 200 ارب ڈالر کے فنڈز کی درخواست کر دی ہے، جس کی منظوری میں سیاسی رکاوٹیں متوقع ہیں۔