کوئٹہ/پشین: پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی سینئر نائب صدر سید صادق آغا نے کہا ہے کہ ان اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرنا سیاسی انتقام کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور قیادت کو ہراساں کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں،
مگر ایسے اقدامات سے ان کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ سید صادق آغا نے کہا کہ حالیہ منعقدہ کنونشن مکمل طور پر آئین و قانون کے دائرے میں تھا اور ہر شہری کو پرامن اجتماع کا بنیادی حق حاصل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کا کنونشن کسی بھی صورت غیر قانونی یا آئین کے منافی نہیں تھا۔ بلکہ یہ جمہوری اقدار کے عین مطابق ایک سرگرمی تھی۔ جس کی پاداش میں مجھ سمیت سید دوست علی۔ نور خان کاکڑ ، سید تاج آغا ، عزیز کاکڑ ، میوند خان،صلاح الدین کاکڑ ، صاحبزادہ حکمت اللہ ،روح اللہ آغا ، گل خان اچکزئی ، صدام ،عمر سالار،شاہنواز کھرل، حاجی محمد کاکڑ ،سید جعفر آغا کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے مقدمات اور گرفتاریوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، جو کہ جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی انتقام کی پالیسی ترک کرے اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنائے۔
سید صادق آغا نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت اور کارکنان کسی بھی دبا میں آ کر نہ جھکیں گے اور نہ ہی اپنے مقف سے پیچھے ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی اور عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔