|

وقتِ اشاعت :   March 25 – 2026

قلات: سابق ایم این اے سینیٹر بی بی روبینہ عرفان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے سرکاری آسامیوں پر نان لوکل افراد کو تعینات کرتے تھے اب قلات میں این جی اوز میں بھی نان لوکل افراد کو تعینات کرنے قلات کے تجربہ کار افراد کی حق تلفی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرینگے۔

آغا خان یونیورسٹی کے زیر نگرانی ہیلتھ اینڈ امیو نائزیشن کے تیسرے مرحلے کے سروے لوکل اور تجربہ رکھنے والے افراد کی تعیناتی کے بجائے ڈسٹرکٹ سپر وائزر کی آسامی پر ایک نان لوکل کو امپورٹ کرنا نہ صرف حق تلفی ہے بلکہ ڈسٹرکٹ قلات کے نوجوانوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے۔

جسیے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا ئیگا۔اس حوالے سے وزیر صحت ،سیکرٹری صحت اور ڈی جی صحت فوری طور پر ایکشن لیں۔

اسکے علاؤہ دو سال قبل ڈاکٹر بی بی سوئیلا احمدزی نے سال دانہ پراجیکٹ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے توسط سے منظور کرایا اس میں بھی اسی شخص کو امپورٹ کی گیا جس کی وجہ سے قلات کے سافٹ امیج پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس قسم کے غیر معیاری اور جانبدارانہ تعیناتیوں کے خلاف سخت ردعمل دیا جائیگا۔ اور ڈی ایچ ایم ٹی نان لوکل افراد کو ڈسٹرکٹ میں کام کرنے سے روک لیں۔میرے تمام کوششیں قلات کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئیے ہے میرٹ کے خلاف اس قسم کے تعیناتیوں کو قبول نہیں کیا جائیگا۔اس حوالے سے میڈیا فورم سمیت تمام عوامی فورمز پر بھرپور احتجاج کرینگے۔اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لینگے