|

وقتِ اشاعت :   March 26 – 2026

بلوچستان میں جدید ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ موجودہ حالات کے پیش نظر جدیدیت کو اپنایا جائے، سرکاری امور سمیت دیگر شعبوں کو ڈیجیٹلائزیشن سے ہم آہنگ کرتے ہوئے گورننس میں بہتری لانے کے ساتھ بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہو اور صوبے بھر میں مواصلاتی نظام کا جال بچھاتے ہوئے تعلیم جیسے اہم شعبے کی ترقی پر زور دیا جائے۔
یہ دور جدید ٹیکنالوجی کا ہے جس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ،تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے بھی ٹیکنالوجی ناگزیر ہے۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے ڈیجیٹل گورننس، نیشنل ڈیجیٹل پالیسی اور بلوچستان میں آئی ٹی کے فروغ کیلئے خصوصی توجہ خوش آئند عمل ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزہ فاطمہ خواجہ نے ملاقات کی جس میں ڈیجیٹل گورننس، نیشنل ڈیجیٹل پالیسی اور بلوچستان میں آئی ٹی کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں وفاقی سیکرٹری آئی ٹی اور چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل نیزوزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند بھی شریک تھے ۔
ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نیشنل ڈیجیٹل پالیسی کی تشکیل اور اس پر مؤثر عملدرآمد کے لیے بلوچستان حکومت مکمل طور پر تیار ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ڈیجیٹل اصلاحات کا باقاعدہ آغاز محکمہ خزانہ کی ڈیجیٹلائزیشن سے کر دیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے میرٹ پر نوجوانوں کی تقرری کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس سے محکمہ خزانہ میں کمیشن کے نام پر جاری بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہو رہا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے مالیاتی نظام کو شفاف ،مؤثر اور کرپشن سے پاک بنایا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت ڈیجیٹل پالیسی کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، گورننس میں بہتری اور نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں ڈیجیٹل پالیسی پر کام کرنے والی متعلقہ اتھارٹی کو کوئٹہ آنے کی دعوت بھی دی جائے گی تاکہ زمینی حقائق کے مطابق مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے ۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے مثبت، ذمہ دارانہ اور تعمیری استعمال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں ۔
ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی جانب گامزن کرنے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
بہرحال بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں گورننس کی بہتری کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے موثر نفاذ اور میکنزم کی تشکیل وقت کا تقاضہ ہے جو بدعنوانی کے خاتمے سمیت ترقی کیلئے ضروری ہے۔
صوبے کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم خاص کر آئی ٹی کے شعبے سے منسلک کرنے کیلئے سرمایہ کاری کی جائے تاکہ نوجوان طبقہ اس سے مستفید ہو جو صوبے کا بڑا اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔
امید ہے کہ بلوچستان حکومت ڈیجیٹلائزیشن کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے گی جو صوبہ کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کارگر ثابت ہوگی اور گورننس پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *