ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنے کا قانون منظور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پارلیمنٹ کی تعمیراتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس حوالے سے ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے لیکن ابھی بل حتمی مرحلے تک نہیں پہنچا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس بل کا مقصد آبنائے ہرمز سے ’گزرنے والے جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا‘ ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ممکنہ طور پر جہازوں سے کتنا ٹول وصول کیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ رات سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران نے اب تک ’چین، روس، پاکستان، عراق اور انڈیا‘ جیسے ممالک کی جانب سے جہازوں کو گزرنے دینے کی درخواستیں قبول کی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران کے نقطہ نظر سے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں بلکہ صرف دشمنوں کے لیے بند ہے۔