ایران نے 15 نکاتی امریکی تجاویز کا باضابطہ جواب بھجوادیا ہے اور اب امریکا کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جنگ بندی کی امریکی تجاویز یک طرفہ اور غیر منصفانہ ہیں،یہ صرف اسرائیلی اور امریکی مفاد میں ہیں۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق پاکستان کے ذریعے ملی امریکی تجاویز کا جائزہ لیا، پاکستان کو مؤقف دیا تھا کہ امریکی تجاویز میں ضروری تقاضوں کی کمی ہے، ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی انتظام نہیں ہوا ہے، اس مرحلے پر بات چیت کا کوئی منصوبہ ابھی نظر نہیں آتا۔
امریکا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے تو راستہ نکالا جا سکتا ہے، سفارت کاری کا عمل رکا نہیں ہے، امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان اور ترکیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی سے پہلے ایران نے 15 نکاتی امریکی تجاویز کا باضابطہ جواب بھجوادیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران اب امریکا کے ردِعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جلد مذاکرات کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیل کا وقت گزر رہا ہے۔
ٹرتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا کہ ایرانی مذاکرات کار بہت مختلف اور عجیب ہیں، وہ مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں، انہیں ایسا کرنا بھی چاہیے کیوں کہ وہ فوجی طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور ان کی واپسی کا کوئی امکان بھی نہیں ہے، لیکن پھر بھی وہ عوام میں کہہ رہے ہیں کہ ایران امریکی تجاویز کو صرف ’دیکھ‘ رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ صحیح نہیں، ایران کو دیر ہونے سے پہلے سنجیدہ ہونا ہوگا، کیوں کہ جب وقت گزر گیا تو پھر کچھ نہیں ہوگا ، جو ہوگا وہ اچھا نہیں ہوگا۔
واشنگٹن میں اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے فنڈ ریزنگ ایونٹ میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی خوف زدہ ہیں، کوئی سپریم لیڈر بننے کو تیار نہیں، ایرانی لیڈر سے کہو کہ سپریم لیڈر بن جاؤ تو وہ شکریہ کے ساتھ انکار کردیتا ہے، ایران خود مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران فوری ڈیل چاہتا ہے مگراندرونی خوف کے باعث کھل کر بات نہیں کر رہا، مشرق وسطیٰ میں ہماری کامیابی بے مثال ہے۔
ایک اور بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک نے ایران کے معاملے میں بالکل بھی مدد نہیں کی، ایران اب فوجی طور پر تباہ ہو چکا ہے، امریکا کو نیٹو سے کسی چیز کی ضرورت نہیں لیکن امریکا اس اہم وقت کو کبھی نہیں بھولے گا۔
امریکی کابینہ ارکان سے گفتگو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف نیٹو نے کچھ نہیں کیا، میں نے 25 سال پہلے بھی کہا تھا نیٹو کاغذی شیر ہے، جو آج ایران کے خلاف کیا ہے 47 سال پہلے ہونا چاہیے تھا، اگر جنگ بندی نہیں ہوئی تو ایران پر بے رحمی سے حملے کریں گے، ایران کو ایک معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ ایران کو امریکی حملوں کا سامنا رہے گا، اگر ایران جوہری خواہشات سے دستبردار نہیں ہوا تو یہ جنگ ان کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوگی، ایرانیوں کے پاس جنگ بندی کا موقع ہے، جو ہوگا دیکھا جائیگا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران جنگ پالیسی پر اب ان کی اپنی کابینہ کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ یہ لاحاصل جنگ کی طرف جارہا ہے جس سے امریکہ کو ہی نقصان پہنچے گا۔
امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران امن کے لیے پرزور ٹیلیفونک سفارتکاری کی۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان دونوں کے قریب ہیں،پاکستانی رہنماؤں نے تہران ،ریاض، ابوظبی، قاہرہ، استنبول اور برسلز میں لیڈروں سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر مسلسل رابطوں سے خطے کا امن بحال کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
اس حوالے سے جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈے فول کا کہنا ہے کہ میری معلومات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے ہو چکے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست ملاقات کی تیاریاں کی گئیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقات جلد متوقع ہے، دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقات بظاہرپاکستان میں ہو سکتی ہے۔
بہرحال پاکستان کی سفارت کاری کی کوششوںکو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے خاص کر امریکہ اسرائیل ایران جنگ میں ثالثی کے حوالے سے، پاکستان چاہتاہے کہ خطے میں تناؤ اور کشیدگی کم اور معاملات امن کی طرف جائیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مذاکرات میں کتنی جلد پیشرفت ہوگی ، امریکی صدر کو اپنی روش بدلنی ہوگی جنگی جنون سے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو نکلنا ہوگا تبھی امن کے راستے کھلیں گے۔
امریکہ اسرائیل ایران جنگ، پاکستان کی سفارتی کوششیں ، ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جنگی پالیسی رد کرنے کی ضرورت!
![]()
وقتِ اشاعت : March 27 – 2026
Leave a Reply