ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو حکومت کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی منڈیوں میں حالات خراب ہونے کی وجہ قرار دیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ ملک میں جس برینٹ کا استعمال کیا جارہا ہے وہ مغربی معیار کا تیل ہے اس کی قیمتیں کتنی اوپر جاتی ہیں ہم وہ معیار استعمال نہیں کرتے ہم سنگاپور عمان دبئی کا معیار استعمال کرتے ہیں اگر اس معیار کو بھی لے لیں جو ہمارے یہاں استعمال ہورہا ہے پھر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ بنتا نہیں ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں پیٹرول سپلائی تعطل کا شکار نہیں ہے جس کی تصدیق خود پیٹرولیم ڈویژن کے نمائندے میڈیا کے سامنے کرتے آرہے ہیں اور بھی بتا رہے ہیں کہ ہمارے پاس تیل کے ذخائر موجود ہیں، تیل سپلائی بہتر ہے جبکہ جہازوں کے ذریعے مزید تیل آرہا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی ہمارے ہاں نہیں ہوگی۔
یعنی تیل سپلائی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے یہ میڈیا پر آکر خود حکومتی نمائندوں کی جانب سے اعتراف کیا گیا ہے۔
اصل مسئلہ جس پر کھل کر بات نہیں کی جارہی وہ پیٹرولیم لیوی ہے جس سے وفاق ٹیکس وصول کرتا ہے اور اس پیٹرولیم لیوی کی مد میں ٹیکس عام لوگوں سے وصول کیا جارہا ہے ماضی میں ٹیکس وصولی کے مختلف ذرائع ہوتے تھے جب تک 18 ویں ترمیم نہیں آئی تھی ،اب وفاق کی جانب سے صوبوں کو زیادہ رقم فراہم کی جارہی ہے تو وفاق کے پاس پیسے نہیں بچتے تو اب وفاق پیٹرولیم لیوی پر ٹیکس کے ذریعے رقم اکٹھی کررہاہے اس میں اہم بات یہ بھی ہے کہ آئی ایم ایف کے شرائط کو پورا کرنے کیلئے لیوی ٹیکس بڑھایا جارہا ہے تاکہ آئی ایم ایف کو ادائیگی میں مشکلات نہ ہو۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اشرافیہ ٹیکس دیتا ہی نہیں ہے پاکستان سے اربوں، کھربوں روپے کماکر بیرون ملک منتقل کرتے ہیں ،کاروبار سے یہاں منافع کماتے ہیں رقم بیرون ملک منتقل کرتے ہیں اور ٹیکس ادا نہیں کرتے یہ سب کچھ نظام کے اندر ہی ہورہا ہے ٹیکس صرف عام لوگوں سے ہی وصول کیا جارہا ہے اشرافیہ اور بڑے طبقوں پر ہاتھ ہی نہیں ڈالا جارہا ۔
حکومت کی جانب سے صرف دعوے ہی کئے جاتے ہیں کہ اشرافیہ پر اب ہاتھ ڈالا جائے گا انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ،غریب عوام پر مزید بوجھ اب نہیں ڈالا جائے گا مگر سب الٹ ہی ہورہا ہے۔
جمعرات کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا پیٹرول 137 روپے 24 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے مقرر ہوگئی تھی۔
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جنگ سے جوڑا جارہا ہے مگر اس کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی ادائیگی کی رقم پوری کرنا مطلوب ہے اور اس کا تعلق اسی سے براہ راست ہے ۔
بہرحال عوامی ردعمل کے باعث بلآخر حکومت یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ یہ اضافہ غیر معمولی ہے جس سے عوام کی نیندیں اڑ گئی ہیں چیخیں نکل گئی ہیں مہنگائی کا نیا طوفان سر اٹھارہا ہے جس کی بنیاد پر وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹرکمی کا اعلان کرتا ہوں۔
پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے سے کم کر کے 378 روپے فی لیٹرمقرر کر دی گئی ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا، نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 378 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر برقرار ہے۔
اس کمی کا اطلاق اگلے ایک ماہ کے لیے پورے پاکستان پر ہوگا۔
بہرحال ڈیزل کی قیمتوں میں بھی فی الفور کمی کی جائے ،عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اشرافیہ سے ٹیکس وصول کیا جائے، پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام پر اب مزید بوجھ نہ ڈالا جائے جو پہلے سے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجوہات، ٹیکس وصولی پر اشرافیہ کیلئے نرم گوشہ کیوں؟
![]()
وقتِ اشاعت : April 5 – 2026
Leave a Reply