پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ بات چیت شام چار بجے شروع ہوئی، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ملاقات کا طریقہ کار کیا ہے۔
سرکاری طور پر اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم سرکاری ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ پاکستانی حکام کی کوشش ہے کہ ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان براہ راست بات چیت کروائی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستانی حکام کے ذریعے ہی ہو گا اور مثبت پیش رفت ہونے کی صورت میں مذاکرات براہ راست بھی ہو سکتے ہیں۔
مذاکرات کے لیے ایرانی وفد جمعے کی شب اسلام آباد پہنچا تھا جبکہ امریکی وفد سنیچر کی صبح اسلام آباد آیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ اپریل کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ میں ‘پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں دو ہفتوں کی مدت کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کرتا ہوں۔’
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی مہلت ختم ہونے میں صرف ایک گھنٹہ اور 28 منٹ باقی رہ گئے تھے۔ وہ دھمکی دے چکے تھے کہ ‘آج رات پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔’
ٹرمپ ایران سے بارہا یہ مطالبہ کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز کھول دے اور اسے ‘پتھر کے دور میں واپس’ دھکیلنے کی دھمکیاں دے چکے تھے۔
اس نوقع ہر شہباز شریف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ‘انتہائی عاجزی کے ساتھ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ، اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہر جگہ بشمول لبنان فوری طور پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔’
انھوں نے کہا کہ ‘میں اس دانشمندانہ فیصلے کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ساتھ ہی میں ان کی مذاکراتی ٹیموں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد تشریف لائیں، تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کی جا سکے۔’
ایرانی وفد نے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثے بحال نہیں ہو جاتے، اُس وقت تک مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔
Leave a Reply