امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی یقین دہانی میں ناکام رہا۔
نائب صدر کے مطابق پاکستان میں ہونے والے یہ ہائی اسٹیکس مذاکرات اکیس گھنٹوں تک جاری رہے، جس دوران وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مسلسل رابطے میں رہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران کی جانب سے واضح یقین دہانی درکار تھی کہ وہ نہ صرف جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا بلکہ ایسے وسائل بھی حاصل نہیں کرے گا جو اسے تیزی سے جوہری صلاحیت تک لے جائیں۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ جاری جنگ اپنے ساتویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم اس وقت عارضی سیز فائر جاری ہے۔
مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے۔
دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی کو آگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی، تاہم گہرے اختلافات اور لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات دو سے تین اہم معاملات پر اختلافات کے باعث ناکام ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان جزوی اتفاق بھی ہوا، تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔
دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے اپنے وعدے کی پاسداری کریں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کا عمل جاری رکھیں۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں بھی ثالثی کا کردار ادا کرتا رہے گا اور امریکہ و ایران کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی کوشش کرے گا۔
ادھر نائب صدر وینس مذاکرات میں تعطل کے بعد اتوار کی صبح اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا آغاز فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا جبکہ 7 اپریل کو امریکہ اور ایران نے مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جو اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
بہرحال امریکہ اور ایران کی جانب سے امن مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات پیش کی جا رہی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت کو امریکہ کے ’غیر معقول مطالبات‘ نے متاثر کیا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایرانی وفد کی مختلف تجاویز کے باوجود، امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا باعث بنے۔
یوں بات چیت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔
دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس نے کافی ’لچک‘ اور ’روا داری‘ کا مظاہرہ کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں ہدایت کی تھی کہ ’یہاں نیک نیتی سے آئیں اور معاہدہ کرنے کی پوری کوشش کریں۔
ہم نے یہی کیا، مگر بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سک۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی سادہ تجویزایک فریم ورک پیش کرکے جا رہے ہیں، جو ہمارا آخری اور بہترین مؤقف ہے۔
فی الحال واضح نہیں کہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کے آئندہ مراحل کیا ہوں گے اور آیا فریقین میں مزید بات چیت ہوگی یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا البتہ اس مذاکرات سے سب کی امیدیں کڑی ہوئی تھی کہ شاید چند نکات پر پیشرفت ہوگی جو مشرق وسطی میں کو بڑی تباہی سے بچائے گا مگر اب ایسا ماحول بنتا دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ اسرائیل دونوں ایران پر شدید حملے کرسکتے ہیں جبکہ ایران بھی ردعمل میں نہ صرف آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھے گا ساتھ ہی خلیجی ممالک پر بھی حملے کرے گا جس سے پورے خطے کے امن تہس نہس ہونے کے ساتھ عالمی معیشت پر بھی اس کے خوفناک اثرات پڑینگے۔
Leave a Reply