|

وقتِ اشاعت :   April 12 – 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان میں ایران کے ساتھ کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد ہونے والی اپنی پریس کانفرنس میں آبنائے ہرمز کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

یہ اہم آبی گُزرگاہ جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس سے لدے بحری جہاز گزرتے ہیں مذاکرات میں ایک بڑا اختلافی نکتہ رہا۔

آبنائے ہرمز سے بحفاظت جہازوں کی آمدورفت کو یقینی بنانا، امریکہ اور ایران کے درمیان مشروط جنگ بندی کی بنیادی شقوں میں شامل ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر حاج بابائی نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز ایران کے لیے ریڈ لائن یعنی سرخ لکیر ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اور ’اس کی فیس ریال میں ادا کی جانی چاہیے۔‘

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز ’جلد کھل جائے گی۔‘

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی ہفتے کو اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کی دو ڈسٹرائر جنگی جہاز ’آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں‘ اور یہ کارروائی آبی راستے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے بڑے مشن کا حصہ ہے۔ تاہم ایران نے ان جہازوں کے گزرنے کے دعوے کی تردید کی ہے۔

فرانس پریس کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ’کسی بھی جنگی جہاز کی آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔‘

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *