|

وقتِ اشاعت :   April 14 – 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے نفاذ کے اعلان کے بعد اب تمام نظریں آبنائے ہرمز پر لگی ہوئی ہیں، جہاں سے عالمی سطح پر تیل و گیس کی پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔
پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ یہ محاصرہ خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک پھیلا دیا جائے گا۔
اس آپریشن کو “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا گیا ہے، جس کے لیے 15 سے زائد جنگی جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔
اس میں ابراہم لنکن سمیت دو طیارہ بردار بحری جہاز اور 12 تباہ کن جہاز شامل ہیں۔
مزید برآں طیارہ بردار جہاز “یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش” بھی افریقہ کے راستے خطے کی طرف رواں دواں ہے، جس نے حوثیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے بحیرہ احمر کے بجائے افریقہ والا راستہ اختیار کیا ہے۔
محاصرے کی نگرانی کے لیے ڈرونز، جاسوس طیاروں، ریڈارز اور مصنوعی سیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کو ایرانی بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ یہ محاصرہ وینزویلا کی طرز پر ہوگا، جہاں ایرانی تیز رفتار کشتیوں کو اسی طرح نشانہ بنایا جائے گا جیسے سمندر میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے حصوں میں ایرانی بندرگاہوں تک رسائی پر پابندیوں کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس یا بحیرہ عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔
پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں تعطل کی بڑی وجہ یورینیم کی افزودگی کا معاملہ تھا۔ امریکہ 20 سال تک افزودگی روکنے کا مطالبہ کر رہا تھا جبکہ ایران کا اصرار تھا کہ یہ پابندی صرف 5 برس کے لیے ہو۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جس میں رکاوٹ عالمی سطح پر فوری اثر انداز ہوگی۔عربین بزنس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جس میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں سے منسلک جہازوں پر ناکہ بندی کردی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران سے آنے اور جانے والی بحری ٹریفک کو روکنا ہے جب کہ دیگر خلیجی ممالک کی تجارتی شپنگ کو راستہ دیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے سبب شپنگ انشورنس مہنگی ہوسکتی ہے جب کہ کئی کمپنیاں جہاز ہٹانا شروع کر سکتی ہیں اور عالمی توانائی منڈی میں ہلچل کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے زور دیا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند روز میں غالباً جمعرات کو دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
بہرحال امریکہ اور ایران کے درمیان فی الحال جنگ بندی برقرار ہے مگر ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے سے مستقبل میں ہونے والے مذاکرات پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اگر اس دوران کوئی حملہ کیا گیا تو جنگ میں شدت پیدا ہوگی اور شاید یہ پہلے سے خطے کیلئے زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *