|

وقتِ اشاعت :   7 days پہلے

اسلام آباد/گوادر: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقیات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) فیز ٹو کے منصوبوں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔

اجلاس میں سی پیک کے طویل المدتی منصوبے اور وژن پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے جنوبی ایشیا، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

 

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ علاقائی کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنایا جائے،انفراسٹرکچر کی بہتری کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں سی پیک 2.0 کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی جامع تجاویز ائندہ تین روز کے اندر سی پیک سیکرٹریٹ کو جمع کرائیں تاکہ منصوبے کا حتمی مسودہ تیار کر کے چین کے ادارے NDRC کو ارسال کیا جا سکے.

پاک-چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر تمام وزارتوں کو 2 سے 3 بڑے فلیگ شپ منصوبے تجویز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس موقع پر کہا کہ حکومت پاکستان اور چین نے سی پیک فیز ٹو کے تحت پانچ نئے اقتصادی کاریڈورز—گروتھ، لائیولی ہڈ، انوویشن، گرین ریولوشن اور ریجنل کنیکٹیویٹی—پر تیزی سے عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تمام وزارتیں ان کاریڈورز کے تحت جامع منصوبہ بندی کرتے ہوئے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے تیار کریں تاکہ انہیں مشترکہ ورکنگ گروپس اور آئندہ اجلاسوں میں شامل کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک فیز ٹو کے منصوبے صنعتی و تجارتی ترقی، روزگار کے مواقع کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس ضمن میں نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *