|

وقتِ اشاعت :   6 days پہلے

برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر اب سے کچھ دیر پہلے پیرس میں ایلیزے پیلس پہنچے ہیں، اور فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں سے ملاقات سے چند لمحے قبل انھوں نے زور دے کر کہا کہ وہ ایران کی جنگ کے عوام پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ’جو کچھ بھی ممکن ہوا کریں گے‘۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سٹارمر نے کہا کہ ’یہ بہت اہم ہے کہ ہم اس اصول کے گرد ممالک کا ایک اتحاد بنائیں کہ جنگ بندی مستقل ہونی چاہیے، ایک معاہدہ ہونا چاہیے، اور آبنائے ہرمز کھلی ہونی چاہیے۔‘

’یہ ہم سب کے مفاد میں ہے، کیونکہ ایران کی جنگ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہماری ہر ایک معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ اسی لیے ممالک ایک ساتھ آ رہے ہیں۔‘

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ’سب پر یہ بات واضح ہے کہ اس کے لیے ہمیں سفارتی اور سیاسی پہلو کی ضرورت ہے، ہمیں لاجسٹک اور معاشی پہلو درکار ہے، اور ہمیں کچھ فوجی منصوبہ بندی بھی چاہیے اور آج ہم اسی مقصد کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔‘

آج سٹارمر اور میخواں تقریباً 40 ممالک کے ایک ورچوئل اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک کثیرالملکی مشن قائم کرنا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *