|

وقتِ اشاعت :   3 days پہلے

ایران نے امریکا سے دوسرے دور کے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا نے بڑا دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے واشنگٹن سے اسلام آباد میں دوسرے دور کے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔
ایران نے امریکا سے مذاکرات سے متعلق اپنی رضا مندی کی تردید کی اور اس کی بڑی وجہ واشنگٹن کے بے جا مطالبات کو قرار دیا ہے۔
ایران نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کی تردید کی جو امریکا کے مطابق منگل کو منعقد ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کے حد سے زیادہ مطالبات، غیر حقیقت پسندانہ توقعات، موقف میں بار بار تبدیلی، تضادات اور جاری بحری ناکہ بندی قابل تنقید اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات سے متعلق خبریں درست نہیں، یہ امریکی میڈیا کا پروپیگنڈاہے، اس حکمت عملی کا مقصد ایران پر دبائو ڈالنا ہے۔
ایران کے اول نائب صدر رضا محمد عارف نے کہا کہ ایران امریکا سے تبھی مذاکرات کرے گا جب دشمن ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کا وعدہ کرے اور ایران کے بین الاقوامی حقوق تسلیم کرے۔
رضا محمد عارف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایران کے دشمن اب مذاکرات کے لیے ایران سے بھیک مانگ رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ میرے نمائندے اسلام آباد جارہے ہیں، وہ منگل کی شام مذاکرات کے لیے موجود ہوں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں گولیاں چلانے کا فیصلہ کیا جو سیزفائر کی خلاف ورزی ہے۔
بہرحال امریکہ ایران جنگ بندی نہ ہونے کے باعث مشرق وسطیٰ سمیت عالمی ممالک شدید تشویش میں مبتلا ہیں ،اس جنگ نے امن کے ساتھ خاص کر معیشت کو بہت بڑا دھچکا پہنچایا ہے اگر امریکہ ایران جنگ بندی میں پیشرفت نہیں ہوئی تو توانائی بحران کے ساتھ غذائی قلت بھی پیدا ہوگی ،خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ،اسٹاک ایکس چینجز متاثر ہونگے جس کے اثرات تمام ممالک پر پڑینگے۔
پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں میں تیزی لائی گئی ہے، دونوں فریقین کو مذاکرات پر راضی کرنے کیلئے بات چیت کی جارہی ہے ،پاکستان امریکہ اور ایران کے ساتھ دیگر ممالک کے سربراہان سے بھی مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی طرح سے بھی جنگ بندی پر اتفاق ہو۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ تنازعات کے حل کیلئے کتنی پیشرفت ہوتی ہے جس سے اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہو۔
بہرحال جنگ بندی کے لئے امیدیں رکھنی چاہئیں، چند روز مزید اگر تاخیر ہو تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن سیز فائر ضروری ہے تاکہ کشیدگی نہ بڑھے جو معاملات کو جنگ کی طرف لے جائے جو محض تباہی کے سوا کچھ نہیں دے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *